یہ مونگ پھلی اپنے پاس رکھو

”“یہ مونگ پھلی اپنے پاس رکھو ” :“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جیسا کہ میجر عامر نے ایک حالیہ انٹرویو میں تفصیل سے بتایا۔ ریاست ہائے متحدہ کے صدر جمی کارٹر نے جنرل محمد ضیاء الحق کو 400ملین ڈالر کی پیش کش کی۔ پانچ برس کے لیے چار سو ملین ڈالر۔ ضیاء الحق کارٹر سے ناخوش تھے۔ ان کا جواب یہ تھا: یہ مونگ پھلی اپنے پاس رکھو۔ یہ ایک گہرا طنز تھا۔ اس لیے کہ کارٹر کی زرعی زمینوں پر مونگ پھلی اگائی جاتی۔جولائی 1979ء میں امریکی صدر نے اسلام آباد کے سفارت خانے کو جنرل ضیاء کے مخالفین کی مدد کرنے کا حکم دیا تھا۔ 27دسمبر 1971ء کو سوویت فوج افغانستان میں داخل ہوئی تو الیکشن ہو چکے تھے۔ دستور مگر یہ ہے کہ نیا صدر 20جنوری کو حلف اٹھاتا ہے۔ ریگن آئے تو خارجہ امور کے مشیر برزنسکی کو اسلام آباد بھیجا۔ ان کا مشورہ بھی یہی تھا کہ افغانستان میں روسیوں کو الجھائے (Engage) رکھا جائے۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے کہا:الجھانے کا کیا سوال، ہم انہیں دریائے آمو کے پار بھیجیں گے۔ ان کے سوا جو بے خبر ہیں یا کذب بیانی پر تلے ہوں، سب جانتے ہیں کہ امریکی امداد ڈیڑھ دو برس کے بعد ملی۔ اس سے پہلے برائے نام تھی۔ جنرل محمد ضیاء الحق جو عام طور پر تامل کا شکار رہتے، افغانستان کے بارے میں پوری طرح واضح تھے۔ جیسا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو میجر عامر نے بتایا: جنرل کا خیال یہ تھا کہ افغانستان میں ایک لاکھ سے زیادہ فوج سوویت یونین لا نہیں سکتا۔ بہتر یہ ہے کہ وہیں اس سے نمٹ لیا جائے، گوادر کی بندرگاہ تک پہنچنے کے لیے، اگر وہ پاکستان میں داخل ہو گیا تو زیادہ قیمت ادا کرنا ہو گی۔ بھنّایا ہوا روسی سفیر جنرل کے دفتر میں داخل ہوا اور اس نے کہا: ساڑھے تین سو برس میں، جہاں کہیں ہم داخل ہوئے، لوٹ کر نہیں گئے۔اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی اور اس میں پاکستانی مداخلت کے کچھ ثبوت۔ جنرل نے فائل ایک طرف رکھی اور کہا: افغانستان کی بھی ایک تاریخ ہے، کبھی کوئی یہاں ٹھہر نہیں سکا۔ افغانستان کے لیے جنرل نے جو حکمتِ عملی بنائی، اسے وہ ایک جملے میں بیان کیا کرتے”” پانی کو موزوں ترین درجہ حرارت پر ابالا جائے۔ روسیوں کی مزاحمت کی جائے مگر مشتعل کرنے سے گریز کیا جائے۔ باقی تاریخ ہے۔ یاد دہانی کے لیے فقط یہ کہ محترم چودھری نثار علی خان کے پسندیدہ لیڈر خان عبدالولی خان، اس زمانے میں ارشاد کیا کرتے: روسی جنرل اگر چاہیں تو مرسڈیز گاڑیوں میں بیٹھ کراچی پہنچ سکتے ہیں۔ وہ کہاں پہنچے؟ بیس برس میں 2.6ٹریلین ڈالر لٹانے کے بعد امریکہ بہادر کہاں پہنچا؟ افغانستان پر دھاوے سے قبل مشاورت کے لیے ایک امریکی وفد خاموشی سے ماسکو پہنچا۔ روسیوں کا مشورہ یہ تھا:ہرگز یہ اقدام نہ کیا جائے۔ آٹھ سالہ لڑائی اور سوویت یونین کی شکست ریخت سے وہ بہت کچھ سیکھ چکے تھے۔ مزید برآں افغانستان میں ان کی انٹیلی جنس اچھی تھی۔ امریکی اس میدان میں ان سے پیچھے تھے۔ جذبات کی شدت میں وضع کی گئی امریکی حکمت عملی کی ایک نمایاں بنیاد یہ تھی کہ افغانستان میں قدم جما کر اس خطے میں، واشنگٹن کا رسوخ بڑھایا جائے۔ آسٹریلیا اور جاپان کے علاوہ، بھارت اب اس کا حلیف تھا۔ دوسرا یہ بھی کہ لڑائی کے اخراجات کا ایک حصہ افغانستان کی معدنیات سے پورا کیا جا سکتا ہے… لیتھئم، رواں صدی میں، جس کی اہمیت سونے سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ تدبیر کند بندہ، تقدیر کند خندہ روسی آئے تو دانشوروں نے بتایا کہ پاکستان کی عسکری قیادت حماقت میں مبتلا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی لڑائی کی مشین کو ہرایا نہیں جا سکتا۔ امریکی داخل ہوئے تو تالبان کا تمسخر اڑایا گیا۔تالبان کے نظریات سے خاکسار کو بھی اتفاق نہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ آزادی کے لیے بروئے کار آنا قابلِ فخر تھا یا قابل مذمت؟ کیسے عجیب دانشور ہمارے حصے میں آئے ہیں۔ فلسطین اور کشمیر میں ہونے والے ظلم پر خاموش۔ افغانستان میں خونخواری پہ شاداں۔ ساری خرابی تجزیے میں ہوتی ہے۔ کیسے لوگ ہیں کہ ہر بار ان کا تجزیہ غلط ثابت ہوتا ہے مگر ان کے لہجوں میں دائم وہی اصرار۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *