ہر ہفتے اور ہر مہینے تبدیلی

”صبح تبدیلی ، شام تبدیلی ، ہر ہفتے اور ہر مہینے تبدیلی ۔۔۔۔۔“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔یہ واقعہ ایک دوست نے سنایا ہے۔ اب اس دوست کا نام کیا لکھنا؟ میرا کیا جاتا ہے؟ میں تو جو دل کرتا ہے‘ لکھ دیتا ہوں اس بات کی پروا کیے بغیر کہ کسی سے تعلقات خراب ہو جائیں گے،لیکن کیا کروں شہر میں اب گنتی کے دوست ہیں اور ظاہر ہے یہ سارے میری طرح بے مروت اور بے لحاظ تو نہیں کہ شہر بھر سے تعلقات خراب کر لیں۔ میں بھی اب ان دوستوں سے اپنے رہے سہے تعلقات بھی خراب نہیں کرنا چاہتا۔ سو احتیاط ان گنتی کے چند دوستوں کی وجہ سے کرتا ہوں کہ کم ازکم چار چھ دوست تو باقی رہنے چاہئیں۔ لہٰذا اس دوست کا نام نہیں لکھ رہا کہ کہیں اس کالم کی قیمت پر میرے اس سے اور اس کے تعلقات کسی اور سے خراب نہ ہو جائیں۔وہ دوست بتا رہا تھا کہ ایک روز وہ چند دوستوں کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا۔ محفل کی کمپوزیشن بڑی مزیدار تھی۔ ان میں ایک پیپلز پارٹی کا ممبر قومی اسمبلی تھا، ایک مسلم لیگ ن کا ممبر قومی اسمبلی اورایک حکمران پارٹی کا وزیر تھا۔ اب میں ان تینوں کے نام بھی نہیں لکھوں گا کہ اگر ان تینوں کے نام لکھ دیے تو پھر واقعہ بیان کرنے والے دوست کے نام کو پردے میں رکھنے کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ وہ سمجھ جائیں گے کہ یہ بات کس نے آگے پھیلائی ہے لہٰذا ان تینوں ناموں کو بھی پردے میں رہنے دیں۔ ویسے اس واقعے کا تعلق ناموں سے ہے بھی نہیں۔ یہ تو ایسا واقعہ ہے جو اس ملک میں ہمہ وقت ہوتا رہتا ہے اور ہر دور میں ایسے درجنوں لوگ ہوتے ہیں جو اسی قسم کا پروفائل رکھتے ہیں جیسا میں نے بیان کیا ہے لہٰذا نام نہ دینے سے بھی واقعے کے مرکزی خیال پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ابھی اس دوست نے اتنی ہی بات بتائی تھی کہ میں نے حسبِ معمول دخل اندازی شروع کر دی۔میں نے اس سے پوچھا کہ کیا یہ تینوں لوگ کسی تھرڈ پارٹی کی تقریب میں اکٹھے ہوئے تھے؟ وہ کہنے لگا: ہرگز نہیں! یہ تینوں آپس میں بڑے گہرے دوست ہیں اور عوام کو آپس میں لڑوا کر ایک دوسرے سے یہ قصے مزے مزے سے بیان کرتے ہیں۔ یہ اوپرکی سطح والے سیاستدان آپس میں اس طرح جوتم پیزار نہیں کرتے جس طرح ہم بیوقوف لوگ ان کے پیچھے لگ کر اپنے دوستوں سے تعلقات خراب کرتے پھرتے ہیں۔ یہ ایک کلب ہے اور اس میں مختلف سیاسی نظریات کے لوگ مختلف سیاسی پارٹیوں میں ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے اسی طرح اچھے تعلقات رکھتے ہیں جس طرح مختلف شوگر ملز کے مالکان پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے)کے اجلاسوں میں اور ٹیکسٹائل ملزکے مالکان آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کی میٹنگز میں ایک دوسرے سے گپ شپ کرتے ہیں، قہقہے لگاتے ہیں، ہاتھ پر ہاتھ مار کر عوام کی جیب سے اربوں روپے نکالنے کی اپنی اپنی ترکیب بیان کر کے لطف لیتے ہیں۔ پھر اکٹھے ڈنرکرتے ہیں اور گھرروانہ ہو جاتے ہیں۔ یہ سیاستدان بھی اپنے اپنے حربے سے ہمارے ووٹ سمیٹ کر آپس میں ہماری حماقتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں‘ قہقہے لگاتے ہیں‘ذرا موج میلے والے ہوں تو شام ڈھلے والے ماکولات سے مزتے لیتے ہیں ڈنر کرتے ہیں اورراضی خوشی اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *