چانسز زیادہ ہیں

”قومی سیاست کے افق پر کس کے آگے آنے کے چانسز زیادہ ہیں ؟“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید حفیظ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بلاول بھٹو مجھے پاکستانی سیاست کا ابھرتا ہوا ستارہ لگتا تھا لیکن اس کی شخصیت پر والد کی سیاست کا دبیز سایہ رہا۔ بلاول آکسفورڈ سے فارغ التحصیل ہے۔ چہرے پر تلخی کم اور مسکراہٹ زیادہ ہوتی ہے۔ میں نے اپنا اولین ووٹ 1970ء میں بھٹو صاحب کو دیا تھا لیکن اس وقت کی پیپلز پارٹی اور آج کی پیپلز پارٹی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آج سرے محل‘ سوئس اکائونٹس‘ منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکائونٹس پارٹی کے نام کے ساتھ چپک گئے ہیں بلکہ پارٹی کا ٹریڈ مارک بن گئے ہیں۔ ان باتوں کا ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں تصور بھی نا ممکن تھا۔بلاول نے چند مرتبہ اپنے والد کی تقلید میں سندھ کارڈ کھیلنے کی بھی کوشش کی حالانکہ اسے علم ہو گا کہ بی بی کے ہمدرد اسے قومی لیول کا لیڈر ہی دیکھنا چاہتے ہیں‘ وہ لیڈر جس کا دامن مذکورہ بالا آلائشوں سے پاک ہو‘ جو مضبوط فیڈریشن کی علامت ہو۔ زرداری صاحب کو چاہیے تھا کہ بلاول کا امیج مسٹر کلین والا بناتے۔ اسے سندھ میں کوئی اہم انتظامی ذمہ داری سونپتے تا کہ اسے تجربہ حاصل ہو جاتا اور وہ قومی لیول کا اچھا لیڈر بنتا۔ لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ اگر بلاول زرداری صاحب کا شہزادہ ہے تو مریم نواز بڑے میاں صاحب کی شہزادی ہے۔ ویسے بھی مریم کی شخصیت اپنے بھائیوں سے بہتر ہے لیکن مریم پڑھائی میں بلاول کے مقابلے میں خاصی ماٹھی رہی ہیں۔ کسی طرح زور سے مریم کا کنیرڈ کالج لاہور میں داخلہ کرانے کی کوشش کی گئی۔ چونکہ میرٹ پر داخلہ نا ممکن تھا لہٰذا پرنسپل نے انکار کر دیا اس گستاخی پر اس کا تبادلہ کر دیا گیا۔ بڑے میاں صاحب تب اقتدار میں تھے اور اپنے آپ کو سیاہ و سفید کا مالک سمجھتے تھے۔ایف ایس سی کے بعد مریم کا داخلہ آرمی میڈیکل کالج میں کرا دیا گیا اور تین ماہ بعد کنگ ایڈورڈ میں مائیگریشن کرا دی گئی۔ محترمہ پھر بھی ڈاکٹر نہ بن سکیں۔ اب ان کے پاس کون سی ڈگری ہے‘ مجھے نہیں معلوم لیکن انٹرنیٹ پر دی گئی معلومات سے لگتا ہے کہ تعلیم میں ماٹھی تھیں۔ چلیں بلاول تو ایم این اے ہیں‘ مریم کے پاس پارلیمنٹ کا بھی کوئی تجربہ نہیں۔ ”بیرونِ ملک تو کیا‘ میری تو پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں‘‘ والا جملہ لوگوں کے ذہن میں محفوظ ہے۔آج کے امیدوار اور ووٹر خاصے ہوشیار ہو گئے ہیں۔ چند ماہ پہلے زرداری صاحب نے لاہور میںElectablesسے ملاقاتیں کیں اور پارٹی میں شرکت کی دعوت دی جو کسی نے قبول نہیں کی۔ امیدواروں کو یقینا اندازہ تھا کہ ابھی پنجاب میں پیپلز پارٹی کے لئے موافق ہوا چلنے کا وقت نہیں آیا۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ بلاول کو پنجاب کے ہر ضلع میں بھیجیں۔ اس مشورے پر بھی خاصی تاخیر سے کام شروع ہوا ہے۔ سیاست اب خاصا محنت طلب کام ہے اور ہمارے شہزادے اور شہزادیاں ابھی اتنی لگاتار محنت کے عادی نہیں۔ان دونوں جماعتوں سے زیادہ دور اندیش تو ق لیگ والے نکلے‘ ان کا سیاسی گدی نشین فیڈرل منسٹر بن گیا ہے‘ کسی اونچی سیاسی پوزیشن پر براجمان ہونے سے پہلے بہتر ہے کہ پارلیمنٹ یا صوبے کا تجربہ حاصل کیا جائے جس طرح انڈیا میں نریندر مودی نے گجرات کی ریاست میں کیا۔سیاست اب جنازے پڑھنے اور شادیاں اٹینڈ کرنے سے آگے جا چکی ہے۔ اب تمام گدی نشینوں کو محنت کرنا ہو گی۔ مجھے مریم کی نسبت بلاول کے اوپر آنے کا چانس زیادہ لگتا ہے‘ اس کے آگے لمبی عمر پڑی ہے اور وہ سزا یافتہ بھی نہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *