پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اعتراض اُٹھا دیا

نادرا کے کورونا سرٹیفکیٹ فیس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اعتراض اُٹھا دیا

اسلام آباد ( 08 ستمبر 2021ء) : نادرا کی جانب سے جاری ہونے والے کورونا سرٹیفکیٹ فیس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اعتراض اٹھا دیا۔ تفصیلات کے مطابق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزارت داخلہ اور نادرا کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین نادرا نے بتایا کہ نادرا ایک کووڈ کا سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے جس کی قیمت صرف ایک سو روپے ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے اعتراض اُٹھاتے ہوئے کہا کہ نادرا سرکاری اداروں کی جانب سے واجبات نہ ملنے کا بوجھ عام آدمی پر ڈال رہا ہے، جس کے پاس روٹی کھانے کے پیسے نہیں ہیں اس سے بھی کورونا سرٹیفکیٹ کے 100 روپے لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیسا ادارہ ہے جو صرف ایک کاغذ سو روپے کا جاری کیا جا رہا ہے۔رانا تنویر نے کہا ہے کہ کورونا سرٹیفکیٹ کا کارڈ بنانے کے ساڑھے 300 روپے لیے جا رہے ہیں۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) رانا تنویر نے تجویز دی ہے کہ نادرا کورونا سرٹیفکیٹ کی فیس 50 روپے کر دے۔ اجلاس کے دوران چیئرمین نادرا نے جواب دیا کہ سرٹیفکیٹ میں کیو آر کوڈ ہوتا ہے جس میں تمام معلومات اسٹور ہوتی ہیں، حکومت اب اس ڈیٹا کو فضائی کمپنیوں اور ریلوے کے ساتھ منسلک کرنا چاہتی ہے، اگر پی اے سی کوئی احکامات جاری کرے تو اس کو سبسڈائزڈ کیا جا سکتا ہے۔چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ چیئرمین نادرا کورونا سرٹیفیکیٹ فیس پر نظر ثانی کریں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نادرا کا 13 کروڑ کا نا دہندہ ہے۔ پی اے سی نے بقایاجات کی وصولی کیلئے الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کی ہدایت کر دی۔ دوسری جانب اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ نادرا نے 2018ء کے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کو سافٹ ویئر سروسز فراہم کی تھیں، اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے ذمہ ای آر ٹی سسٹم کے 13 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *