”وہ بے پناہ حسین تھی“

”وہ بے پناہ حسین تھی“

سٹوریز ! کسان نوجوان اپنے کھیت میں کام کر رھا تھا….ایک نسوانی قہقہے سے وہ چونک گیا..ایسی حسینہ تو اس نے زندگی بھر نہ دیکھی تھیوہ اس کی طرف بڑھا چلا گیا,,, وہ بھی مسکرا رھی تھی…..میرے ساتھ گھر چلو گی ؟ وہ بلا جھجھک اس کے ساتھ ھو لی.. .وہ فضاؤں میں اڑنے لگا۔ چوھدری کا ڈیرہ آباد تھا دوست احباب کے مجمع میں,, نوکر چاکر خدمت کے لئے کھڑے ھوے…چوھدری جی!! چوھدری جی!! اُس کا خادمِ خاص ڈیرے میں ھانپتا کانپتا داخل ھوا…خیر تو ھے ؟ خیر تو ھے ؟او جی خیر کہاں.!! میں چوک میں کھڑا تھا , نورے جٹ کا جوان لڑکاایک ایسی حسینہ کے ساتھ گزر کے گھر جارھا تھا کہ اس جیسی زندگی میں نہ دیکھی ,, نامعلوم کہاں سے لے کر آیاھے… چاند کا ٹکڑا ھے. چوھدری جیاسے سمجھ. نہیں آرھا تھا کہ اسے کہاں بٹھاؤں…آج اس کی زندگی کا بہترین دن تھا ,,اس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا.. وقعی جب خدا دیتا ھے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ھے …اسے کچھ شور کی آواز آرھی تھی جو اور قریب آگئی….. پھردروازہ کھٹکھٹایا جانے لگادروازہ کھلا…چوھدری ھکا بکا رہ گیا اور بے اختیار اس حسینہ کی طرف بڑھا…نوجوان جٹ ایک آھنی دیوار کی طرح اس کے راستے میں حائل ھو گیا….تم میری لاش پر سے گزر کر ھی اس تک پہنچ پاؤ گے…تم اس کے قابل نہیں… نہ یہ گھر اس کے قابل ھے…یہ میری حویلی میں رھے گی., نوکرانیاں., راحت., آرام., عزّت,, اسے وھاں ملے گی…نہیں یہ فیصلہ جج کی عدالت میں جائے گا۔ عدالت پورے جوبن پر تھی… سائل, مدعی, وکلاء , اھلکار., عملہ سب موجود تھے۔چوھدری ھکا بکا رہ گیا اور بے اختیار اس حسینہ کی طرف بڑھا…نوجوان جٹ ایک آھنی دیوار کی طرح اس کے راستے میں حائل ھو گیا….تم میری لاش پر سے گزر کر ھی اس تک پہنچ پاؤ گے…تم اس کے قابل نہیں… نہ یہ گھر اس کے قابل ھے…یہ میری حویلی میں رھے گی.
, نوکرانیاں., راحت., آرام., عزّت,, اسے وھاں ملے گی…نہیں یہ فیصلہ جج کی عدالت میں جائے گا۔ عدالت پورے جوبن پر تھی… سائل, مدعی, وکلاء , اھلکار., عملہ سب موجود تھے۔جج صاحب. اپنی مسند ِخاص.پر رونق افروز….جج صاحب نے نظر آٹھائی اسے اپنی نظروں پر یقین نہیں آرھا تھا… اس نے عینک اتار کر صاف کی اور دوبارہ دیکھا… واقعی وہ حور اس کے سامنے کھڑی تھیجج بولا ارے یہ منہ اور مسور کی دال اپنی اوقات دیکھو اور اس کا حسن یہ تم دونوں کے لائق نہیں میرے پاس مال و دولت ھے عہدہ ھے بنگلے ہیں. گاڑیاں ہیں نوکر چاکر معاشرے میں ایک حیثیت ھے یہ میرے لائق ھے چلو نکلو تم دونوں اور اس کو یہیں رہنے دو وہ ہکّے بکّے رہ گئے نہیں چوہدری چلایا یہ نہیں ہوسکتا نوجوان بولا ہم راضی نہیں ہیں اب تو بادشاہ سلامت ہی ہمارے درمیان فیصلہ کریں گےبادشاہ کے پاس چلو جج نے سب کام وہیں چھوڑے اور اب تینوں حسینہ کو ساتھ لئے بادشاہ کے محل کی طرف بڑھنے لگےدربار سجا ہوا تھا .وزیر مشیر درباری سب اپنی اپنی مسندوں پر اور بادشاہ اپنے تخت پر جلوہ افروز تھا اسکے سر پر رکھے ہوئے تاج کے موتیوں سے سارا دربار جگمگا رہا تھا. اور وہ خود بھی حسن کا کرشمہ تھا دربان تین اشخاص اور ایک حسینہ کو لا کر بادشاہ کے سامنے پیش کرتا ھے بادشاہ سلامت نے نظر اٹھائی تو دیکھتا کا دیکھتا ہی رہ گیا

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *