ن لیگ میں واپسی کے چانس زیادہ ہیں یا تحریک انصاف

”چوہدری نثار کے (ن) لیگ میں واپسی کے چانس زیادہ ہیں یا تحریک انصاف میں شمولیت کے ؟؟“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مسلم لیگ(ن) نے الیکشن 2018ء میں ٹکٹ جاری نہ کرکے چودھری نثار علی کو پارٹی سے باہر جانے کا راستہ دکھا دیا تھا، مگر وہ طویل عرصے تک اس امید پر کسی اور پارٹی میں شمولیت سے گریز کرتے رہے کہ نواز شریف کا بیانیہ فارغ ہو جائے گا اور پارٹی کا کنڑول ان کے ہم خیال شہباز شریف کے پاس آجائے گا، ایسا ہو جاتا تو ممکن تھا کہ مسلم لیگ(ن) میں چودھری نثار کے لئے پھر سے جگہ بن جاتی۔ بہر حال ایک خاص مدت سے زیادہ انتظار ممکن نہیں تھا ویسے بھی انہیں اپنے صاحبزادے کو حلقے کی سیاست میں سامنے لانا ہے سو انہوں نے نئی سیاسی لائن اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ظاہر ہے وہ برسر اقتدار جماعت پی ٹی آئی میں شمولیت کو ترجیح دیں گے۔ یہ ان کا حق ہے اور کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق بھی نہیں تاہم چند دعووں کی وضاحت ہونی چاہئے۔ چودھری نثار نے اپنے انٹرویو میں 2014ء کے دھرنوں سے متعلق کہا ہے کہ ”دھرنوں کے وقت کی ویڈیو کلپس نکال لیں، اخبارات نکال لیں، میں ایک قدم بھی پی ٹی آئی اور قادری صاحب کو ادھر سے آگے جانے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں تھا،جہاں میں نے جگہ دی تھی۔ میں نے پرائم منسٹر ہاؤس سے اٹھ کر جاکر ایف سی، رینجرز اور پولیس کو کہا کہ آپ ایکشن شروع کریں، میں پنجاب ہاؤس پہنچا تو پیچھے پرائم منسٹر نے پی ٹی آئی اور طاہر القادری کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت دے دی، میں نے تواس پر استعفیٰ دے دیا تھا ہو سکتا ہے چودھری نثار نے وزارت داخلہ سے استعفیٰ دیا ہو، مگر وزیراعظم نواز شریف نے نامنظور کردیا ہو۔اصل سوال تو یہ ہے کہ عمران اور قادری کے دھرنوں کو بزور طاقت ریڈ زون میں آنے سے روکا جاتا تو بدامنی کاذمہ دار کون ہوتا؟۔ مگر ابھی چند روز پہلے ہی مشاہد حسین نے انکشاف کیا ہے کہ اس سے پچھلے دور حکومت میں جب نواز شریف خاصے مضبوط اور بااختیار وزیراعظم سمجھے جاتے تھے۔ایک روز پی ٹی وی پر خبر چل گئی کہ پاکستان نے ملا عمر مرحوم کے تالبان حکومت کو تسلیم کرلیا ہے۔ نواز شریف نے خبر دیکھ کر وزیر اطلاعات مشاہد حسین سے رابطہ کیا۔ وہ بھی لاعلم نکلے۔ مزید تحقیقات کیں تو پتہ چلا دفتر خارجہ کو ایسا کرنے اور پھر پی ٹی وی پر خبر چلانے کا کہا گیا تھا۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر اس دور میں یہ حال تھا تو 2013ء میں آگے پیچھے دھرنوں اور زبردست محاصرے میں چلنے والی حکومت اس طرح کا فیصلہ کیسے کرسکتی تھی۔ چودھری نثار نے یہ وضاحت بھی نہیں کی کہ کیا افغان صدر حامد کرزئی ملا برادر سے مذاکرات کرنا چاہتے تھے یا اپنے ہاں منتقل کرکے انتقام کی پیاس بجھانا مقصود تھا۔ فریقین کا موقف آنے تک معاملہ واضح نہیں ہو سکتا۔ابھی حال ہی میں وفاقی وزیر شیریں مزاری نے شکوے کے انداز میں کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان پر دباؤ ڈال کر ملا برادر کو رہا کرایا پھر مذاکرات کیے۔ تو کیا مذاکرات کرنا ممنوعہ فعل ہے؟ چودھری نثار نے ایک دلچسپ بات یہ بھی کہی کہ وہ سیاست میں عبدالولی خان کو آئیڈیل مانتے ہیں۔اگر وہ اسفندیار ولی کا نام لے لیتے تو شاید اتنی حیرانی نہ ہوتی۔ اس”انکشاف“ پر اتنا تبصرہ ہی کافی ہے۔ چودھری نثار نے آصف زرداری کو اچھا انسان اور زیرک سیاستدان قرار دیا، مگر اس کی جو وجہ بتائی وہ قابل غور ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک سیاسی ورکر کے طور پر میں سمجھتا ہوں پیپلز پارٹی اپنے سیاسی کارڈز صحیح کھیل رہی ہے، ایک سیاستدان کو خاص کر سیاسی لیڈر کو اتنے ہی پاؤ ں پھیلانے چاہئیں جتنی چادر ہے، بلکہ اس سے تھوڑے کم پھیلانے چاہئیں، پیپلز پارٹی اپنی سیاسی طاقت اپنے مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے پاؤ ں پھیلارہی ہے، میرا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں سب سے بہتر سیاسی کارڈ کھیل رہی ہے،اس تبصرے سے واضح ہوگیا کہ چودھری نثار کو یقین ہے کہ پیپلز پارٹی مکمل طور پر اسی دائرے کے اندر رہ کر سیاست کر رہی ہے جو غیر سیاسی قوتوں نے اس کے اردگرد کھینچ رکھا ہے۔ اس بات پر آصف زرداری کو شاباش یقینا چودھری نثار جیسا ”مردم شناس“ ہی دے سکتا ہے۔سب جانتے ہیں کہ چودھری نثار نے مسلم لیگ(ن) کو نہیں چھوڑا، بلکہ مسلم لیگ(ن)کی قیادت نے انتہائی سرد رویہ روا رکھنے کے بعد ان کے لئے اپنی پارٹی کے دروازے بند کر دیئے۔پی ٹی آئی میں چودھری نثار سے کیا سلوک ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے اکثر ارکان اسمبلی کو لگ رہا ہے کہ انہیں 2023ء کے انتخابات میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اکثریت شدید پریشانی سے دوچار ہے اور پارٹی قیادت کی پالیسیوں کے حوالے سے مطمئن نہیں۔ کیا یہ عجیب نہیں مسلم لیگ(ن) نے ایک طرف تو مشاہد حسین،خواجہ آصف، رانا تنویر، اور اس طرح کے کئی ارکان کو نہ صرف ساتھ رکھا ہوا ہے بلکہ عہدے بھی دے رکھے ہیں اور دوسری جانب چودھری نثار جیسے تجربہ کار سیاستدان کو زبردستی نکال باہر کیا۔ کچھ اورنہیں تو نثار میں یہ صلاحیت تو تھی کہ مسلم لیگ(ن) کے مخالفین بالخصوص پیپلز پارٹی کی ڈٹ کر مخالفت کرتے تھے اور تابڑ توڑ جواب دیتے تھے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *