مجوزہ قانونی ترمیمی آرڈیننس

کاروباری افراد کے لیے اہم خبر; آن لائن ٹیکس نظام سے منسلک نہ ہونے پرجرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ
جُرمانہ 10 لاکھ سے لاکھ روپے تک ہو سکتا ہے۔ مجوزہ قانونی ترمیمی آرڈیننس

اسلام آباد (04 ستمبر 2021ء) : کاروباری افراد کے لیے اہم خبر یہ ہے کہ کاروباری افراد کو ٹیکس کے دھارے میں لانے کے لیے مزید اقدامات کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ایسے تمام کاروباری افراد اور کاروباری اداروں پر 300 فیصد سے زائد جرمانہ ادا کیا جائے گا جو آن لائن ٹیکس نظام سے خود کو منسلک نہیں کریں گے۔وزارت مالیات کی جانب سے دی گئی تجویز کے مطابق ایسے تمام انفرادی اور کاروباری افراد اور کاروباری اداروں پر 10 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا جو ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیلز (پی او ایس) نظام سے خود کو آن لائن طریقے سے منسلک نہیں کریں گے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جرمانے کی یہ تجاویز تیسرے ٹیکس ترمیمی آرڈیننس 2021ء میں شامل ہیں جو اس وقت محکمہ قانون کے زیر غور ہے۔مجوززہ قانونی ترمیمی آرڈیننس میں ایسے تمام کاروبار کی فہرست بھی شامل ہے جنہیں ایف بی آر کے آن لائن نظام کے ساتھ منسلک کیا جانا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ پوائنٹ آف سیلز کی تعداد کو 11 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ تک لے جایا جائے گا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اگر کوئی ریٹیلر اپنے کاروبار کو ایف بی آر کے آن لائن نظام سے منسلک نہیں کرتا تو اس پر 10 لاکھ روپے جرمانے کے علاوہ کاروبار کو سیل بھی کیا جاسکتا ہے۔ن کا کہنا تھا کہ نئی تجاویز میں پہلی بار ڈیڈ لاین میں منسلک نہ ہونے والے یعنی پہلی بار ڈیفالٹ کرنے والوں پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے جبکہ دوسری دفعہ ڈیفالٹ کرنے پر جرمانہ دس لاکھ تک عائد کیا جائے گا۔ تیسری بار ایسا کرنے کی صورت میں جرمانہ بڑھ کر بیس لاکھ اور اس کے پندرہ دنوں بعد یہ جرمانہ تیس لاکھ تک عائد کیا جاسکے گا اور ایسے کاروبار کو سیل بھی کیا جائے گا۔ جبکہ گذشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا تھا کہ ‘بزنس کمیونٹی ٹیکس دے کر حکومت کی مدد کرے’

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *