”سی ایس ایس امتحانات :“

”سی ایس ایس امتحانات :“

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سی ایس ایس امتحانات کے نتائج نے پھر پورے ملک کو حیران کر دیا ۔ اس حوالے سے لاہور سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ جب بیچلرز سے پی ایچ ڈی کرنے والے امیدواروں نے امتحانات میں شرکت کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے، اس کے علاوہ والد کا پیشہ بھی امیدواروں کی کارکردگی پر اثرانداز ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، سی ایس ایس کے تحریری امتحانات میں لاہور سے سب سے زیادہ امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جس کے بعد بالترتیب اسلام آباد، ملتان اور کراچی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ سی ایس ایس امتحانات میں شرکت کرنے والے امیدواروں کے تعلیمی پس منظر میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے جس میں بیچلرز ڈگری سے پی ایچ ڈی کرنے والے امیدوار شریک ہوئے۔ ایم پی ایس سی کی سالانہ رپورٹ 2019 جو کہ دی نیوز کے پاس موجود ہے، اس میں 2015 سے 2019 تک امیدواروں کے اختیاری مضامین کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ ان مضامیں میں بین الاقوامی تعلقات، جینڈر اسٹڈیز، امریکا کی تاریخ اور بین الاقوامی قانون شامل ہیں۔ رپورٹ کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ لازمی مظامین میں پاکستان امور واحد مضمون ہے جس میں اہل امیدواروں میں سے کوئی بھی 60 فیصد سے زائد نمبر حاصل نہیں کرسکا۔ رپورٹ میں ہر امیدوار کے والد کا پیشہ بھی ان کی کارکردگی پر اثرانداز ہوا ہے، 2018 کے نتائج کے مطابق 20 فیصد امیدوار جنہیں کامیابی ملی وہ ریٹائرڈ ملازم کی اولادیں تھیں۔ اس کے علاوہ 2016-19 تک سی ایس ایس میں شرکت کرنے والے 60 فیصد سے زائد امیدواروں نے بین الاقوامی تعلقات کا مضمون لیا، 40 فیصد نے جینڈر اسٹڈیز ، امریکا کی تاریخ اور بین الاقوامی قانون کے مضامین لیے۔ سی ایس ایس امتحانات میں شرکت کرنے والے زیادہ تر امیدواروں کا تعلق لاہور سے تھا۔ 2019 میں 372 کامیاب امیدواروں میں سے 151 کا تعلق لاہور سے تھا، جب کہ امتحان میں شرکت کرنے والے طلبا کیمجموعی تعداد 4099 تھی۔ 2020 کے لیے درخواست گزار امیدواروں کی اکثریت بھی لاہور شہر سے تھی۔ مجموعی طور پر 10385 درخواستیں لاہور سے دی گئی تھیں۔ 2016-18 تک امیدواروں نے جن اختیاری مضامین کو کم سے کم اختیار کیا ان میں اردو ادب، اکنامکس، کمپیوٹر سائنسز، یورپی تاریخ، فلسفہ، انگریزی ادب، کیمسٹری، ریاضی، شماریات اور زولوجی شامل ہیں۔ 2018 کے امتحانات میں لازمی مضامین کے حوالے سے اگر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو انگریزی مضمون میں 90 فیصد اہل امیدواروں نے 40 سے 59 فیصد نمبرز حاصل کیے، جب کہ صرف 10 فیصد ہی 60 فیصد سے زیادہ نمبرز حاصل کرسکے۔ انگریزی میں 88 فیصد اہل امیدواروں نے 40 سے 59 فیصد نمبرز حاصل کیے۔ جب کہ 12 فیصد نے متعلقہ مضمون میں 60 فیصد سے زائد نمبرز حاصل کیے۔ جنرل سائنسز اور قابلیت میں 56 فیصد کامیاب امیدواروں نے 60 فیصد سے زائد نمبرز حاصل کیے اور صرف 44 فیصد نے ہی 60 فیصد سے کم نمبرز لیے۔ حالات حاضرہ میں 31 فیصد اہل امیدواروں نے 60 فیصد سے زائد نمبرز لیے، جب کہ پاکستان امور کے مضموں میں کوئی امیدوار بھی 60 فیصد سے زائد نمبرز نا لے سکا، صرف 11 فیصد امیدوار ہی 40 فیصد سے زائد نمبرز حاصل کرسکے۔ جب کہ 2018 میں سی ایس ایس امتحانات میں صرف 17 فیصد امیدوار ہی اسلامیات کے مضمون میں 60 فیصد نمبرز لے سکے۔ اعدادوشمار میں عمر کے لحاظ سے بھی امیدواروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں 23 سے 25 سال کے نوجوان پاکستان سول سروسز میں نوکری حاصل کرنے میں سرفہرست رہے۔ اس عمر کے 31 امیدواروں نے 2018 میں سول سروسز کا انتخاب کیا۔ 25 سے 27 سال کی عمر کے 28 فیصد اسامیوں پر منتخب امیدواروں نے 28 فیصد نوکریاں حاصل کیں، جب کہ 27 سے 29 برس کے 19 فیصد امیدواروں نے سی ایس ایس 2018 میں کامیابیاں حاصل کیں۔ تاہم، 30 سال سے زائد عمر کے امیدوار سب سے کم تناسب میں سول سروس میں شمولیت اختیار کرسکے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امیدواروں کی اکثریت کے پاس بیچلرز ڈگری تھی تاہم، 2013 سے اس رجحان میں بھی تبدیلی آئی ہے کیوں کامیاب ہونے والے امیدواروں کی اکثریت کے پاس ماسٹرز ڈگری ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *