سرگرمیاں بحال ہو گئیں

سعودیہ میں ڈیڑھ سال بعد اہم کاروباری پیشے کی سرگرمیاں بحال ہو گئیں

یکم ستمبر سے مملکت میں ہزاروں اسکول کھُلنے سے پیشتر اسٹیشنری شاپس بھی کھُل گئیں، جن پر بہت رش دیکھا جا رہا ہے
ریاض(30 اگست 2021ء) سعودی عرب میں کرو نا وبا کی وجہ سے ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے تک جمود کی حالت میں رہنے کے بعد بالآخرکتابوں اور اسٹیشنری کی دکا نوں پر رونقیں بحال ہو گئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق سعودی مملکت میں یونیورسٹی، کالجوں اور مڈل اسکولوں میں اتوار سے تدریسی عمل کی بحالی کے ساتھ ہی مملکت بھرمیں بک اسٹوروں کی طرف سے خریداری کے لیے پیشگی تیاری مکمل کرلی ہے۔نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل طلبا اور طالبات کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بازاروں میں والدین کا بھی رش دیکھنے میں آیا ہے۔ لوگ دھڑا دھڑ اسٹیشنری، کتابیں، کاپیاں، یو نی فارم اور طلبا کی اسکول کی دیگر ضروریات خرید رہے ہیں۔اسکول کے سامان کے لیے ان کمرشل اسٹورز کے مالکان نے ہرعمر کے طلبا اور طالبات کی ضروریات اور خواہشات کے مطابق اسکول کا سامان جیسے بیگ، کتابیں، نوٹ بک، قلم، سکول یونیفارم اور دیگر چیزوں کی زیادہ سے زیادہ مقدار خرید لی۔اس ساما ن میں اسکول یونیفارم، جیو میٹری بکس اور مختلف ر نگ مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں۔واضح رہے کہیکم ستمبر سے مملکت بھر کے تمام اسکولز میں بچوں کی آمد شروع ہو جائے گی۔ اس حوالے سے سعودی وزارت تعلیم کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ اگر کسی طالب علم میں کورونا کی تشخیص ہوئی تو اسے اگلے دس روز تک اسکول آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ سعودی وزارت تعلیم کی جانب سے یہ بات سکولوں میں طلبا کی واپسی سے قبل کورونا ایس او پیز کے حوالے سے جاری ایک گائیڈ بک میں بتائی گئی ہے۔اس گائیڈ بک میں بتایا گیا ہے کہ اسکولز میں صبح کی اسمبلی نہیں ہو گی۔ تمام طلبا سماجی فاصلے کے ضابطے پر عمل کرتے ہوئے سیدھا کلاس رومز جائیں گیااور کسی بھی جگہ پر جمگھٹا نہیں لگائیں گے۔ سکولز کے کیفے ٹیریاز اور بوفے مراکز فی الحال بند رہیں گے۔ تمام طلبا کو لنچ کلاس روم میں اپنی جگہ پر بیٹھ کر ہی کرنا ہوگا۔والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحت کا خصوصی دھیان رکھیں۔ اگر ان کے بچے میں کورونا کی کوئی علامات دکھائی دیں تو اسے اسکول جانے سے روک دیں اور ٹیسٹ کروا کر تسلی کریں۔ اگر بچے میں کورونا کی تشخیص ہوتی ہے تو سکول انتظامیہ کو بھی فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔ تاکہ بچے سے رابطے میں رہنے والے ساتھی طلبا اور ٹیچرز کی صحت کی جانچ ہو سکے

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *