حوصلے کی شاندار اور سچی داستان

”ایک غریب نوجوان کی عزم وہمت اور حوصلے کی شاندار اور سچی داستان“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پچھلے ہفتے وزارتِ خارجہ کے ایک افسر پر کالم کیا لکھا کہ ملک و بیرون ملک سے بےشمار قارئین نے پاک دھرتی کے اس ہیرے کا نام پوچھا جس نے غربت کی کوکھ میں رہ کر تعلیم حاصل کی اور پھر سی ایس ایس کرکے شاندار خدمات انجام دے رہا ہے۔کالم کی طوالت کے خوف سے کچھ باتیں رہ گئی تھیں، پہلے وہ باتیں پھر کام اور پھر نام۔ وہ غریب ضرور تھا مگر کلاس میں اول آتا تھا۔ کالج دور میں وہ مچھروں والی جگہ، بھینسوں کے باڑے میں سوتا تھا لیکن کلاس میں سی آر تھا، وہ اساتذہ کو پیریڈ میں لیٹ نہیں ہونے دیتا تھا۔کالج کے کئی لیٹ آنے والے ٹیچر اُس سے نالاں تھے مگر وہ اس ناراضی کی پروا نہیں کرتا تھا بلکہ اس کا موقف تھا کہ جب اساتذہ حکومت سے تنخواہ لیتے ہیں تو انہیں پڑھانا بھی چاہئے۔ ان اساتذہ نے سارا غصہ پریکٹیکلز کے وقت نکالا اور اسے بہت کم نمبر دے کر صرف پاس کیا۔ دورانِ تعلیم اس نے نوکری کے لئے کوشش کی مگر ناکام رہا کہ سفارش ہی نہیں تھی، اس نے پرائمری اسکول کا ٹیچر بننا چاہا تو ناکامی ملی پھر ہائی اسکول کا استاد بننا چاہا مگر یہاں بھی کامیابی نہ مل سکی۔ ان ناکامیوں کے باوجود اس نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا، جب وہ کالج سے یونیورسٹی گیا تو داخلہ فیس کے لئے ڈھائی سو روپے نہیں تھے، والد سے کہا تو انہوں نے کہا کہ ’’بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے مزدوری کرتا ہوں، میرے پاس ڈھائی سو روپے نہیں ہیں‘‘ باپ کا جواب سن کر اس نے کہا کہ ’’کچھ بھی ہو جائے میں نے پڑھنا ہے‘‘۔ بیٹے کا تعلیمی شوق دیکھ کر باپ نے ڈھائی سو روپیہ مجبوراً سود پر لیا اور بیٹے کو داخلہ فیس دے دی مگر صرف ڈھائی سو روپے سے کام کیسے چلتا؟ یہاں تو ہوسٹل میں رہنا تھا، تعلیمی اخراجات بھی تھے۔ اس نے اس کا بھی حل نکالا، وہ سیدھا یونیورسٹی کی مسجد کے امام کے پاس گیا، اسے کہا کہ رہنے کیلئے جگہ چاہئے۔ امام مسجد نے اس شرط پر رہنے کی اجازت دی کہ اسے کچھ بچوں کو پڑھانا ہوگا۔ خیر رہائش مل گئی مگر کچھ عرصے بعد اس نے یونیورسٹی کے طلبا کے لئے سائنس لیبارٹری کی اشیاء کا مطالبہ کر دیا۔ وائس چانسلر کو پتہ چلا کہ یہ لڑکا یونیورسٹی کی سینٹرل مسجد میں رہتا ہے تو وی سی بہادر کا اختیار جاگا، اس نے امام مسجد کو بلوایا اور کہا کہ اس لڑکے کو فوراً نکال دو، ورنہ تمہاری نوکری ختم۔ امام مسجد نے نوکری بچائی اور اس لڑکے نے بھی کہیں اور بندوبست کر لیا۔ وہ تین برس یونیورسٹی میں پڑھا اور ان تین برسوں میں وہ صرف دوپہر کا کھانا کھاتا تھا، ایسا نہیں تھا کہ وہ یہ کام شوق سے کرتا تھا، اس کی غربت تین وقتوں میں صرف ایک وقت کے کھانے کی اجازت دیتی تھی۔ اس دوران اس کا وزن ہمیشہ 45سے 48کلو کے درمیان رہا۔وزن خاک پورا ہوتا، جب کھانا ہی ایک وقت ملتا ہو تو پھر انڈر ویٹ ہونا تو یقینی ہو جاتا ہے۔ ان تین برسوں میں ایک دن ایسا آیا کہ اس کے پاس دوپہر کے کھانے کے لئے بھی پیسے نہ رہے۔ جب ہر طرف بےچارگی نظر آئی تو وہ اپنے خدا کے حضور پیش ہوا، اللہ سے نوکری مانگی، قدرت نے مہربانی کی تو اگلے ہی دن کوئی شخص اسے ڈھونڈتا ہوا آ گیا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *