تازہ ترین تبصرہ

”ذرا چند حقائق پر غور کر لو ۔۔۔۔۔ ہارون الرشید کا تازہ ترین تبصرہ“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیل کارنیگی نے لکھا ہے:ابرہام لنکن کی تلخ ترین تحریر‘ان کی وفات کے بعدایک میز کی دراز سے برآمد ہوئی۔1859ء سے شروع ہونے والی لڑائی کے ہنگام پہ ایک جنرل کے نام تھی:تم ہمیشہ مزید جوانوں‘ہتھیاروں اور سامان کا مطالبہ کرتے ہو۔ یہ خط کبھی سپرد ڈاک نہ ہوا۔ڈیل کارنیگی نے لکھا ہے:گمان یہ ہے کہ عبارت تحریر کرنے کے بعد لنکن نے ایوان صدر کی کھڑکی سے باہر جھانکا ہوگا۔شب کی تاریکی میں ہڈیوں کا گودا جما دینے والی ٹھنڈ کو محسوس کیا ہو گا۔پھر یہ سوچا ہو:جنوبی امریکہ کے خون آشام دشمنوں کے درمیان‘حالت لڑائی میں وہ امداد کا طلب گار ہے۔امداد اگر نہیں دی جا سکتی تو کم از کم حوصلہ شکنی سے گریز کرنا چاہیے۔ خدا کی بستی جنت تو کبھی نہ تھی۔آدمی کو آزمائش کے لئے تخلیق کیا گیا۔ابتلا اور امتحان اس کا مقدر ہیں۔اب مگر یہ لگتا ہے کہ باقی ماندہ احساس اور درد مندی بھی دنیا سے رخصت ہوئی۔حکمران ‘سیاست دان اور جنرل اگر بے رحم ہیں تو سنسنی پسند میڈیا ان کا مددگار۔ غور و فکرکے لئے فرصت نام کی کوئی چیز شاید باقی نہیں رہی۔ آخری زمانوںکے باب میں سرکارؐ کے فرامین میں سے ایک کا خلاصہ یہ ہے:مہینے دنوں کی طرح اوردن چولہے میں جلتے تنکوں کی طرح گزرتے جائیں گے۔ جہاں تک تالبان کو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح ‘اہل تقویٰ کے طور پر پیش کرنے والوں کا تعلق ہے ‘ ان کے لئے بھی ذبیح اللہ کے اظہار خیال میں غور و فکر کے مواقع موجود ہیں۔ساٹھ ہزار بے گناہ پاکستانیوں کو زندگی سے محروم کرنے والی تحریک تالبان کے بارے میں انہوں نے کہا:پاکستان کا یہ اندرونی معاملہ ہے۔کشمیر کے باب میں محترمہ نسیم زہرہ نے سوال کیا تو ان کا جواب یہ تھا: یہ پاکستان اور بھارت کا تنازعہ ہے‘پرامن طریق سے جو حل کرنا چاہیے۔نسیم زہرہ نے انہیں یاد دلایا کہ وادی میں ظلم کا بازار گرم ہے۔دو ملکوں کا تنازعہ نہیں یہ ایک بین الاقوامی معاملہ ہے‘اقوام متحدہ کی قرار دادیں ‘جس پر گواہ ہیں۔ پھر جنید یاد آئے‘سیدالطائفہ جنید بغدادؒ ‘نیم مجذوب حسین بن منصورحلاج دعوے پہ دعویٰ کرتا رہا تو فرمایا: حسین یہ کاروبار دنیاہے ‘ازل سے ایسا ہوتا آیا ہے اور ابد تک ایسا ہی ہوتا رہے گا

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *