ایک عام سی لڑکی سے ہو گئی

میری شادی گھر والوں کی مرضی سے ایک عام سی لڑکی سے ہو گئی

میرے گھر والے میری شادی کر نا چاہتے تھے مجھے اس چیز سے کوئی خاص مطلب نہ تھا گھر والوں نے ایک لڑکی دیکھی اور پسند کی مجھے تصویر دکھائی گئی مجھے تو ایک عام سی لڑکی لگی کوئی خاص چیز تو نظر نہ آئی میں نے کہا آپ لوگوں کو پسند ہے تو ہاں کر دیں۔ منگنی ہو گئی میں نے نہ تو کبھی کال کی اور نہ ہی ان کے گھر کبھی گیا مجھے ان سب چیزوں کی فکر ہی نہ تھی۔ میں اپنی زندگی میں خوش تھا اچھا کما لیتا تھا اپنا کام تھا اوپر فلیٹ میں رہتا تھا باہر سے کھا نا کھاتا اور سو جا تا اور پورا دن نیچے کام پر گزارتاتھا دل کیا تو کبھی گھر بھی چلے جاتے تھے شادی کا دن آ گیا میں نے گھر والوں سے کہا بس نکاح کرو۔اور کوئی رسم وغیرہ رہنے دو مجھے بس یہی تھا ایک لڑکی کی ذمہ داری اٹھانی ہے کھانے پینے اور جو وہ ضرورت کی چیزیں مانگیں لا دو بس مطلب کہ شادی نہ بھی ہوتی تب بھی گزارا ہو رہا تھا شادی ہو بھی جائے تو فرق تو آنا نہیں تھا شادی ہوئی لڑکی کو گھر لے آئے باقی وہ جو رسم وغیرہ ہوتی ہے یہ تو سب گھر والوں کی ہوتی ہے رخصتی وغیرہ کے بعد میں گھر آ گیا خیر میں نے کہیں پڑ ھا تھا کہ شادی کے دو نفل اد ا کرنے ہوتے ہیں میں وہ بھی اد اکیے اور پھر اسی بہانے عشاء کی نماز بھی پڑ ھ لی تھی ویسے کبھی دل میں آتا تو نماز پڑ ھ لیتا تھا ورنہ کوئی بھی کسی بھی قسم کی روٹین نہیں تھی میری نماز پڑ ھنے کی ۔ نہیں تو نہ سہی اور میں سو گیا۔جو میری روٹین تھی مجھے نیند آئی اور میں سو گیا نہ ہی مجھے خوشی تھی اور نہ ہی مجھے غم تھا شادی کے اگلے دن اٹھا اور کام پر آ گیا دو دن ایسے ہی گزر گئے۔ بات چیت ہوئی بس اتنی جتنا اس نے پوچھا جواب دے دیا اس سے زیادہ کچھ نہیں اس نے پوچھا کہ آپ شادی سے خوش نہیں میں نے کہا مجھے دکھ بھی نہیں میں لوگوں میں ایڈجسٹ ہونے میں وقت لیتا ہوں بس نا کبھی میں نے اس کی تعلیم پوچھی نہ کچھ اور میں نے کو نسا جاب کروانی تھی ایک دو بار امی کے کہنے پر اسکو گھر چھوڑنے گیا نہ میں نے اس کو پردے کا کہا نہ ہی حجا ب کا اس کو جو اچھا لگے کر لے مطلب کہ اپنا دخل کچھ نہ تھا سوچنے پر تو وہ بھی مجبور تھی کہ بندہ ہے کیا چیز میں سو یا ہو ا تھا۔ میرے پیر کا انگو ٹھا اس نے پکڑا اور کہا کہ اٹھیے اور نماز پڑ ھ لیجئے میں نے اردگرد دیکھا اور میں نے اس کو کچھ نہ کہا میں نے سوچا کہ چلو اب اٹھ ہی گیا ہو ں تو نماز تو پڑھ ہی لینی چاہیے سو میں نے نماز پڑ ھی دورکعت نماز ادا کی اور پھر بستر پر سو گیا اب وہ میرے پاس ہی بیٹھ گئی قرآنِ پاک پڑھنے لگی میں مست ہو کر سو یا ہوا تھا آواز تو آہستہ آہستہ آ رہی تھی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *