ایک شاندار رپورٹ

”مگر کیسے ؟ ایک شاندار رپورٹ“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار میجر (ر) زاہد مبشر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اب امریکی صدر امید کر رہے ہیں کہ افغانستان بدامنی کا مرکز نہیں بنے گا لیکن شاید وہ بھول گئے ہیں کہ خود امریکہ کے ہاتھوں پر لاکھوں لوگوں کا خون ہے۔ وہ اپنے ملک سے ہزاروں میل دور پرامن ممالک پر دھاوا بول چکا ہے دوسروں تو نصیحت کرنے کے بجائے انہیں اپنے طز عمل پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ افغانستان نے تو امریکہ کو ایسا سبق سکھایا ہے کہ آئندہ دور دراز کے ملکوں پر اٹیکس کرنے سے پہلے وہ کئی بار سوچے گا۔ اگرچہ ایک امریکی ترجمان نے صومالیہ اور سوڈان کو اپنے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ عجیب منطق ہے کہ چھوٹے چھوٹے غریب مالک ایک سپر پاور کے لیے خطرہ قرار دیئے جاتے ہیں۔ ہماری حکومت نے جس تحمل اور دلیری سے افغان مسئلے سے نمٹا ہے وہ یقیناً قابل ستائش ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پوری کوشش کی کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جائے لیکن پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی نے بڑی حد تک ان کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ ہماری اپوزیشن جماعتوں اور نام نہاد دانشوروں کو کم از کم خارجہ محاذ پر حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے اور بغض عمران میں پاکستان مخالف بیانات اور اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ امریکہ نواز پاکستانیوں کے لیے تالبان کی فتح میں ایک بہت بڑا سبق موجود ہے۔ تالبان کی فتح کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوا ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحدیں انشاء اللہ محفوظ ہو جائیں گی۔ پاکستان کے شرپسند عناصر کے لیے ایک بڑی پناہ گاہ کا خاتمہ ہوا ہے۔ پاکستان کے غداروں کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان اللہ کے فضل سے پاکستان کا مثالی ہمسایہ ثابت ہوگا۔ کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہو ںگے ۔ بھارت کو تین چار ارب ڈالر کا خسارہ ہوا ہے۔ کشمیر کے بارے میں تالبان کا بیان بھارت کے لیے کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔ ہمیں تالبان کی فتح پر خوش ہونے کا پورا حق ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *