”ایسی چیز جو اس وقت دنیا کے کسی ملک کے پاس نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔“

”ایسی چیز جو اس وقت دنیا کے کسی ملک کے پاس نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔افغانستان سے بھاگتے ہوئے جو دفاعی سامان امریکی چھوڑ کر گئے ہیں، اس کی افادیت، اہلیت اور تعداد پر ایک نظر ڈالنے کے بعد اندازہ کیجئے، ان سب کی موجودگی میں اگر امریکہ اور عالمی اتحاد کو شکست ہو سکتی ہے تو پھر اس کائنات کا مالک سچا ہے جو فرماتا ہے۔ ’’بار ہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آیا‘‘ (البقرہ: 149)۔ مالِ غنیمت کی تعداد، افادیت، اہمیت اور برتری ملاحظہ کیجئے۔ یہ سب سازوسامان اب طال-بان کی دسترس میں ہے۔ (1)۔ ھموی (Humvee) ٹینک نما گاڑی (22,174عدد)۔ اس ایک گاڑی کی لاگت تقریباً 25 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ اسے خاص طور پر صحرائوں، پہاڑوں اور میدانی علاقوں میں گوریلا لڑائی کے مقابلے کیلئے بنایا گیا ہے۔ اس کے اردگرد ایک مقناطیسی حصار ہوتا ہے جو اپنی طرف آنے والی چیزوں کو واپس دھکیل دیتا ہے۔ (2)۔M1117 Armoured Security Vehicle (634 عدد)۔ یہ گاڑیاں امریکی پولیس کے پاس ہوا کرتی تھیں جنہیں خاص طور پر زیرِ زمین سُرنگوں اور سڑک کے کنارے نصب مواد سے نبردآزما ہونے والے آلات لگا کر افغانستان کیلئے ڈیزائن کیا گیا۔(3)۔ Mine Proof Vehicles, Maxx Pro (155 عدد)۔ یہ ایسی ٹینک نما گاڑی ہے جسے صرف اسرائیل کیلئے ڈیزائن کیا گیا تھا جو کسی بھی قسم کے اچانک اٹیکس، سُرنگوں اور براہِ راست لڑائی کیلئے کامیاب سمجھی جاتی ہے۔(4)۔ بکتر بند گاڑی (armoured personnel carrier) (169 عدد)۔ انہیں عرفِ عام میں اے پی سی کہتے ہیں اور یہ ٹینک کی صورت پہیوں والے پٹے پر چلتی ہے۔ لیکن ان امریکی گاڑیوں میں سیٹلائٹ سے کئی میل دُور تک دُشمن کو ڈھونڈنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔(5)۔ پِک اَپ وغیرہ (بیالیس ہزار 42,000 عدد)۔ ان میں زیادہ تر اعلیٰ کوالٹی کی ڈبل کیبن پِک اَپس ہیں جو افغانوں کی محبوب سواری ہے۔
(6)۔ ایل ایم جی ، ایس ایم جی (چونسٹھ ہزار تین سو تریسٹھ 64,363 عدد)۔ (7)۔ ٹرک، آٹھ ہزار۔ (8)۔ وائرلیس سیٹ (ایک لاکھ باسٹھ ہزار تینتالیس 162,043 عدد) ۔ (9)۔ اندھیرے میں دیکھنے والے آلات (night-vision devices) (16,035 عدد)۔ یہ وہ ہتھیار ہیں جسے امریکیوں نے خاص طور پر اپنے لئے مخصوص کر رکھا تھا اور امریکی ان ہتھیاروں کے تالبان کے ہاتھ میں آ جانے کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ (10)۔ تین لاکھ اٹھاون ہزار پانچ سو تیس ہتھیار (3,58,530عدد)۔ (11)۔ ایک لاکھ چھبیس ہزار دو سو پچانوے چھوٹے ہتھیار (1,26,295 عدد) اور اس زمینی دفاعی سازوسامان کے علاوہ فضائی لڑائی کی برتری کی علامت سمجھنے والے طیارے اور ہیلی کاپٹر جو تالبان کے ہاتھ آئے ہیں۔ ان کی تعداد یہ ہے۔ (1)۔ ہیلی کاپٹر Mi-17۔ (33 عدد)۔ یہ بنیادی طور پر روسی ساخت کا ہیلی کاپٹر ہے جو سامان کی ترسیل کے علاوہ لڑائی میں بھی کام آتا ہے۔ (2)۔ بلیک ہاک UH-60 (33 عدد)۔ یہ وہ ہیلی کاپٹر ہے جس پر امریکی ٹیکنالوجی کو بہت ناز ہے۔ دُنیا بھر کے ممالک اس کے خریدار ہیں۔ آسٹریلیا سے لے کر اسرائیل تک ہر کسی نے اسے لڑائیوں میں آزمایا ہے۔ اس وقت ان ہیلی کاپٹروں کی جتنی تعداد تالبان کے پاس ہے کسی اور ملک کے پاس نہیں ہے۔ اس ایک ہیلی کاپٹر کی لاگت ایک کروڑ امریکی ڈالر ہے۔ (3)۔ MD-530 ہیلی کاپٹر (43 عدد)۔ یہ خاص طور پر ایئر فورس کیلئے بنایا گیا ہے جس کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ وہ فضائی لڑائی میں کیسے زمینی افواج کو تباہ کر سکتا ہے۔(4)۔ سی 130 ٹرانسپورٹ طیارے۔ (4 عدد)۔ اس طیارے سے تو ہم سب آشنا ہیں۔ (5)۔ سیسنا 208۔ (28 عدد)۔ عام مسافر فائٹر طیارہ۔ (6)۔ سیسنا RC-208 (10 عدد)۔ یہ آبادیوں پر دھاوا بولنے کیلئے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ (7)۔ Embraer EMB 314/A29 Super Tucano (23 عدد)۔ اس ایک جہاز نما ہیلی کاپٹر کی قیمت 30 کروڑ ڈالر ہے اور اسے امریکی جدید فضائی برتری کا شاہکار تصور کرتے ہیں۔ تالبان کے پاس آنے والے مالِ غنیمت کی یہ لسٹ ان کے کسی خیر خواہ نے جاری نہیں کی ہے بلکہ یہ فہرست افغانستان میں 2008ء سے قائم ایک امریکی ادارے ’’SIGAR‘‘ نے جاری کی ہے۔ اس ادارے کا پورا نام ہے۔special Inspector General for Afghanistan Reconstruction افغانستان کی تعمیر نو کیلئے خصوصی انسپکٹر جنرل۔ اسے جارج بش نے 28 جنوری 2008ء میں قائم کیا تھا جس کا مقصد افغانستان میں خرچ ہونے والے امریکی ڈالروں کی نگرانی کرنا تھا۔ یہ فہرست اس ادارے نے اس وقت شائع کی تھی جب امریکی رات کی تاریکی میں بگرام ایئر پورٹ چھوڑ کر افغانستان سے نکل رہے تھے۔ یہ ادارہ گزشتہ بارہ سال کے عرصے میں ہر سال ان ’’بِکائو‘‘ افغان فورسز کے ارکان کی بدعنوانی کی مستقل سالانہ رپورٹ جمع کرواتا رہا جو بتاتی تھی کہ یہ کیسے اپنا سامان اونے پونے داموں فروخت کرتے جا رہے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تالبان نے کابل فتح کر لیا، پورے افغانستان پر آج ان کا اقتدار ہے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس ’’مالِ غنیمت‘‘ کو نمائش طور پر پیش نہیں کیا، اس بات پر فخر نہیں کیا کہ دیکھو اب ہمارے پاس یہ ٹیکنالوجی آ گئی ہے۔ وجہ صرف ایک ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے بغیر جیتے ہیں اور امریکی اسی ٹیکنالوجی کی موجودگی میں ہارے ہیں۔ کس قدر بدقسمتی، ذِلّت و رُسوائی کی بات ہے کہ عالمی طاقت کا سربراہ، امریکی صدر جوبائیڈن آج اس بات پر فخر کرتا ہے کہ ’’دیکھو ہم نے کابل ایئر پورٹ سے انسانوں کے انخلاء کا جو مشن مکمل کیا ہے وہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور تیز رفتار مشن تھا‘‘۔ ایک جانب عالمی طاقت جلد بھاگ نکلنے پر فخر محسوس کر رہی ہے اور دوسری جانب کابل ایئر پورٹ پر داخل ہونے والے تالبان اللہ کے سامنے سربسجود ہوتے ہیں تو ان کی آہیں، سسکیاں اور چیخیں نہیں رکتیں۔ شکر کی نعمت سے مالا مال یہ مردانِ صف شکن۔ کوئی ہے جو ان کے مقابل ٹھہر سکے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *