اس وقت تک ناکام رہیں گی جب تک

”میرا جسم میری مرضی والی دمچیاں اس وقت تک ناکام رہیں گی جب تک ۔۔۔۔۔۔“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔قارئین ! یقین کیجئے جب تک طاہرہ اقبال مائینڈ سیٹ موجود ہے، مغربی دمچیوں المعروف ’’میرا جسم میری مرضی ‘‘ کا مستقبل مخدوش ہی رہے گا۔ دوسرا موضوع بزدار حکومت، محکمہ بلدیات اور اس کے سربراہ نور الامین مینگل کاشکریہ ہے۔ میں نے کسی کالم یا ٹی وی پروگرام میں سول رجسٹریشن فیسوں میں ناانصافی کا ذکر کیا تھا جو عام آدمی کیلئے بڑا بوجھ تھا کہ زندگی، موت، شادی، طلاق تو بیروزگاروں میں بھی چلتی ہے ۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق ان سب میں ترمیم کر دی گئی ہے مثلاً کمپیوٹرائزڈ ،پیدائش، موت، نکاح، طلاق کی پرانی فیس 300سے کم کرکے200کر دی گئی ہے۔ پیدائش کے لیٹ اندراج کی فیس 2000سے کم کرکے 200، 7سال بعد 5000سے کم کرکے 2000،موت کے لیٹ اندراج کی فیس 5000سے کم کرکے 1000،درستی یا تبدیلی کیلئے 1000سے کم کرکے 500کر دی گئی ہے ۔ آسودہ حال لوگوں کیلئے یہ سب کسی ’’مذاق‘‘ سے کم نہ ہوگا لیکن ان کروڑوں کا سوچئے جو خطِ غربت پر نہ جیتے ہیں نہ انتقال کرتے ہیں۔چند روز پہلے بھی اسی کالم میں لکھا تھا کہ خطِ غربت کے مکینوں کا مطلب ہے وہ لوگ جن کیلئے قبر، کفن اور قاری صاحب کی فیس بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتی ہے ۔اور اب آخر پہ یہ اخباری سرخی پڑھ کر اپنا مسئلہ بھی یاد آ گیا ’’بجلی بل 31کی بجائے 37روز تک کی بنیاد پر بھیجے جانے کا انکشاف ‘‘ خود میرے ساتھ جو لطیفہ ہوا ،لاجواب ہے ۔ہمارا شہر والا گھر دو حصوں میں تقسیم ایک 7بیڈ روم گھر ہے ۔افراد خانہ کی تعداد 5 ، میں بیسمنٹ میں ہوتا ہوں جہاں ایک وقت میں ایک ایئر کنڈیشنر ہی چلتا ہے مثلاً اگر بیڈروم میں ہوں تو وہاں ، لائبریری میں ہوں تو صرف وہاں، اسی طرح مہمانوں کی آمد پر اگر ڈرائنگ روم میں ہوں تو صرف وہاں ، بیسمنٹ اور بالائی منزلوں کے میٹرز بھی علیحدہ ہیں اور کمال دیکھیں ایک لاکھ سے کہیں اوپر کے بلز میں بیسمنٹ کا بل فیملی والے پورشن سے بھی زیادہ ہے حالانکہ جیسا عرض کیا کہ بیسمنٹ میں ایک سے زیادہ اے سی چلانے کی نوبت ہی نہیں آتی لیکن پورے ماحول پر بدمعا-شی طاری ہے۔ بہرحال سمجھ ضرور آ گئی ہے، معمہ ضرور حل ہو گیا کہ وارداتیے یعنی بھیجنے والے 31کی بجائے 37روز تک کی بنیاد پر بل بناتے اور بھیجتے ہیں کیونکہ اس معاشرہ میں ’’ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ‘‘ جو کیمیکلز والا دودھ اور کتوں، گدھوں، چوہوں، چمگادڑوں اور مردہ جانوروں مع ’’ٹھنڈی مرغیوں‘‘ کا گوشت بیچ سکتے ہیں …کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *