احتجاج کی دھمکی دے دی

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ، صدر مملکت کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے احتجاج کی دھمکی دے دی

اسلام آباد ( 13 ستمبر 2021ء) : پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب کے دروان اپوزیشن نے احتجاج کی دھمکی دے دی ۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے چوتھے پارلیمانی سال کے آغاز پر مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی خطاب کریں گے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اجلاس کے بائیکاٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور باہر احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے۔قومی اخبار ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن نے 13 اگست کو اختتام پذیر ہونے والے تیسرے پارلیمانی سال میں صدر کے خطاب پر بحث کی اجازت نہ دینے پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ بعد ازاں احتجاج کرنے والی جماعتوں نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ برسر اقتدار جماعت کی الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو دھمکیاں پارلیمنٹ کو کمزور کرنے اور میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش ہے۔آئین کے آرٹیکل 56 (3) کے تحت پارلیمانی سال کے آغاز کے لیے صدارتی خطاب لازمی ہے، جبکہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج شام میں شروع ہونے والا ہے جس دوران قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی متوقع ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اسمبلی سے واک آؤٹ اور باہر مظاہرہ کرنے سے قبل ہی صدر عارف علوی کے خطاب میں خلل پیدا کرنے کی حتمی حکمت عملی بھی تیار کرلی گئی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا تیسرا پارلیمانی سال 13 اگست کو نئی مثال کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جس میں قومی اسمبلی نے صدر کو ان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے آخری خطاب پر بحث کے بغیر ”شکریہ کا ووٹ” دیا۔ اس کے علاوہ اپوزیشن نے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کے علاوہ اسمبلی کے باہر ہونے والے صحافیوں کے احتجاج میں شرکت کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے، صحافی ”حکومت کی جانب سے میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کے خلاف” سراپا احتجاج ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *