پاکستانیوں کے لیے کوششیں رنگ لے آئیں

وزیر اعظم عمران خان کی سعودیہ میں قید پاکستانیوں کے لیے کوششیں رنگ لے آئیں
سعودیہ سے رہائی پانے والے مزید 28 پاکستان وطن پہنچ گئے، تحریک انصاف کے سینیٹر اعجاز چودھری نے استقبال کیا

جدہ(3 اگست 2021ء) وزیر اعظم عمران خان کی سعودیہ کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کوششیں رنگ لے آئیں۔ سعودیہ میں مختلف جر-ائم میں قید مزید 28پاکستانی سزا معاف ہونے کے بعد رہائی پا کر وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعجاز چودھری نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان پاکستانیوں کا استقبال کیا۔اس کے علاوہ اوور سیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے افسران بھی موجود تھے۔ رہائی پانے والے تمام پاکستانیوں کا علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کورونا ٹیسٹ لیا گیا اور انہیں ایس او پیز کے تحت باہر لایا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر اعجاز چودھری نے کہا کہ سعودیہ میں قید پاکستانیوں کی رہائی وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔اوور سیز پاکستانی ملک و قوم کا سرمایہ ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت ان اوور سیز پاکستانیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔ رہائی پانے والے قیدیوں میں سے 9 کا تعلق خیبر پختوانخواہ کی مہمند ایجنسی سے ہے جبکہ باقی افرادلاڑکانہ، سیالکوٹ ، لوئر دیر، کرم ایجنسی، سوات، چارسدہ، ہنگو، مردان اور پشاور کے رہائشی ہیں۔ حکام کے مطابق رہائی پانے والے 9 افراد ذاتی خرچ پر لاہور پہنچے جبکہ باقی 19 کے ٹکٹ کے اخراجات حکومت پاکستان نے برداشت کیے۔واضح رہے کہ چند روز قبل سعودیہ میں تعینات پاکستانی سفیر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) بلال اکبر نے بتایا تھا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر قیدیوں کو دی گئی معافی کے تحت 65 پاکستانی قیدیوں کی باقی سزا بھی معاف کی گئی ہے۔ رمضان کے مہینے سے لے کرمئی کے مہینے تک 49 پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کر دیا گیا تھا جس کے بعد مزید 53 قیدیوں کی رہائی کے انتظامات بھی کیے جا رہے تھے۔مئی میں وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے سزا یافتہ پاکستانی قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر دستخظ کیے تھے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2019 میں پاکستان کے دورے میں دو ہزار 17 پاکستانیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس اعلان کے بعد 12 سو زائد پاکستانیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کیا جا چکا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ بلال اکبر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں قید گیارہ سو قیدیوں کی واپسی جلد ممکن نہیں ہے۔ اس معاملے میں ابھی 2 سے 3 ماہ مزید لگ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ سعودی عرب کی مختلف جیلوں میں اس وقت ڈھائی ہزار کے لگ بھگ پاکستانی شہری مختلف جر-ائم کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ان قیدیوں میں سے 11 سو کے قریب ایسے ہیں جن کے جر-ائم کی نوعیت کم سنگین اور ان کی سزائیں کم ہیں۔لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ بلال اکبر کا کہنا تھا کہ سعودی جیلوں میں ایسے 400 سے 500 پاکستانی بھی قید ہیں جو جرمانے ادا نہ کئے جانے کی وجہ سے رہا نہیں ہوسکے، اس سلسلے میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے، فنڈز کی فراہمی کے لیے حکومت کو احساس پروگرام، بیت المال یا او پی اایف کے فنڈز کو استعمال کرنے کی تجاویز بھجوائی گئی ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.