پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ کا وزیراعظم عمران خان سے ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرنے کا حکم

اسلام آباد ( 28 اگست 2021ء ) ایک فیصد افراد ٹک ٹاک کاغلط استعمال کررہے ہیں تو سوشل میڈیا پر پابندی حل نہیں، سوشل میڈیا کو معاشرے کی تنزلی سے نہیں جوڑا جا سکتا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان سے ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرنے کا حکم جاری کر دیا- تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے معروف چینی ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق پی ٹی اے کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ وزیراعظم عمران خان اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک سے متعلق پالیسی معلوم کرے- چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا، 4 صفحات پرمشتمل تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے ٹک ٹاک پر پابندی کا کوئی مناسب جواز پیش نہیں کر سکا، جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت کی استدعا کی ہے۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے وکیل نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ ٹک ٹاک پابندی کا معاملہ کابینہ کے سامنے نہیں رکھا اور عدالتی استفسار پر پی ٹی اے حکام نے بتایا ٹک ٹاک پر ٹیکنالوجی کے دوسرے ذرائع سے رسائی ممکن ہے، ٹاک ٹاک پر پابندی اس لیے بھی غیر موثر ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کے دیگر ذرائع سے رسائی ہو سکتی ہے۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ جب یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ایک فیصد افراد ٹک ٹاک کاغلط استعمال کررہے ہیں تو سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی حل نہیں، سوسائٹی میں تنزلی کی علامت کو سوشل میڈیا سائٹس پر موجود مواد سے نہیں ملایا جا سکتا، عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی غیر معمولی ترقی نے سوسائٹی میں بہت سے چیلنج سامنے لائے۔حکمنامے کے مطابق عدالت نے استفسار کیا ہے کہ کہ ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق حکومتی پالیسی کیا ہے، پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ٹک ٹاک پر پابندی کے لیے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کر دی گئی تھی، ٹک ٹاک کو بند کرنے کے خلاف درخواست میاں علی زین سمیت 5 دیگر شہریوں نے دائر کی جس میں وفاق ، پی ٹی اے ، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پیمرا کو فریق بنایا گیا ، درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ ٹک ٹاک پر پابندی لگا کر نئی پالیسی تشکیل دی جائے اور حکومت کو غیر اخلاقی مواد روکنے کے لیے ریگولیٹری میکانزم بنانے کا حکم دیا جائے ، آئین کا آرٹیکل 31 ملک میں اسلامی طرز زندگی کی ضمانت دیتا ہے لیکن ٹک ٹاک سے نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے کیوں کہ ٹک ٹاک کے ذریعے غیر اخلاقی اور فحش مواد پھیلایا جا رہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ امریکا ، بھارت اور بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک میں ٹک ٹاک پر عارضی پابندی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *