وہ پیغام کیا تھا؟

جب ابلیس کا پوتا حضور اکرم ﷺ کے پاس ایک نبی علیہ السلام کا پیغام لے کر حاضر ہوا، وہ پیغام کیا تھا؟

امیرالمومنین حضرت عمرفاروق ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن شہنشاہ امم حضوراکرم ؐ کے ہمراہ کوہ تھامہ پربیٹھے تھےکہ اچانک ایک بوڑھاہاتھ میں عصالیے ظاہرہوااوراس نے حضوراکرم ؐ کی بارگاہ میں سلام عرض کیا۔حضوراکرم ؐ نے جواب مرحمت فرمایااورکہاکہ اس کی آواز جنات جیسی ہے ۔حضوراکرم ؐ کے استفسارپراس نے بتایاکہ میرانام حامہ بن حیم بن لاقیس بن ابلیس ہے۔یہ سن کرحضوراکرم ؐ نے فرمایاکہ گویاتیرے اورابلیس کے درمیان دوپشتیں ہیں ۔حضوراکرم ؐ نے اس کی عمرپوچھی تواس نے عرض کیاکہ جتنی دنیاکی عمرہے اتنی یااس سے تھوڑی کم ہے۔یارسول اللہ ؐ جن دنوں قابیل نے ہابیل کوشہید کیاتھااس وقت میں کئی برس کابچہ ہی تھامگربات سمجھتاتھاپہاڑوں میں دوڑ تاتھا۔اورلوگوں کاکھانااورغلہ چوری کرلیاکرتاتھااورلوگوں کے دلوںمیں وسوسہ بھی ڈال دیتاتھا۔تاکہ وہ اقارب کیساتھ بدسلوکی کریں۔آقا ؐ میں حضرت سیدنانوح ؑ کے ہاتھوں توبہ کرلی ہے۔اوران کے ساتھ ان کی مسجدمیں ایک سال تک رہاہوں۔میں حضرت سیدناہود،حضرت سیدنایعقوب ،حضرت سیدنایوسف ؑ کی مقدس صحبتوں سے مستفیدہوچکاہوں ۔اوران سے توریت سیکھی ہے اوران کاسلام حضرت عیسی روح اللہ تک پہنچانے کاشرف حاصل کیاہے۔اوریاسیدالانبیا ؐ حضرت سیدناعیسیؑنے فرمایاتھاکہ اگرتجھے نبی آخرالزماں حضرت محمدؐ کی زیارت کاشرف حاصل ہوتومیراسلام ان کوعرض کرنا۔سوسرکاردوعالم اس امانت سے سبکدوش ہونے کاشرف حاصل ہورہاہے۔اورآ پ ؐ کے دست حق پرست پرتوبہ بھی کرناچاہتاہوں۔اوریہ بھی آرزو ہے کہ آپ مجھے اپنی زبان حق کاترجمان سے کچھ کلام اللہ عزوجل کاتعلیم فرمائیے۔حضوراکرم ؐ نے اسے مرسلات ،تیسویں پارے کی پہلی سورۃ،سورۃ اخلاص ،مئوذتین یہ سورتیں تعلیم فرمائیں اوریہ بھی فرمایاکہا اے حامہ جب بھی تمہیں کوئی حاجت ہومیرے پاس آجانااورمیری ملاقات نہ چھوڑنا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.