ن لیگی حکومت کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

میرپور (ظفرمغل سے)”مال مفت دل بے رحم“،”ہم سا ہوکوئی تو سامنے آئے“،آزاد کشمیر میں پانچ سال تک ن لیگی حکومت کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کی طرف سے گڈگورننس اور میرٹ کا ڈھنڈوراپیٹنے والی حکومت کے خاتمہ کے بعد کچن کابینہ کے اراکین کے خلاف قواعد و قانون سیاہ کارنامے منظر عام پر آنا شروع ہوگئے،

دو سابق وزراء چوہدری اسماعیل گجر اور راجہ نصیر نے قریبی رشتہ داروں کو نوازنے کیلئے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ”چپ کا روزہ“نہ توڑا،ایک کے داماد نے میونسپل کارپوریشن میرپور کی گاڑیاں اڑھائی سال اورایک کے بھتیجے نے سوا سال سے اپنے زیر استعمال رکھتے ہوئے پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے کے باوجود تاحال دونوں آفیسران غیر قانونی طور پر دیدہ دلیری اور سینہ زوری سے دونوں گاڑیاں دبا رکھی ہیں،ایڈمنسٹریٹر کی طرف سے گاڑیوں کی واپسی کیلئے لکھے گئے مراسلے اور آڈٹ پیروں کے باوجود دونوں افسروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی،احتسابی ادارے لوکل گورنمنٹ بورڈ،وزارت بلدیات اور دیگر متعلقہ حکام بھی خاموش تماشائی بنے رہے،دونوں آفیسران کے زیراستعمال گاڑیوں کا کرایہ بھی لاکھوں روپے واجب الادابقایا،یہ صورتحال پی ٹی آئی کی موجود حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر کے پانچ سالہ دورحکومت میں ن لیگی وزیراعظم اور انکی کچن کابینہ کے اراکین گڈگورننس اور میرٹ کا ڈھنڈوراپیٹتے نہیں تھکتے تھے مگر اب ان کا پارلیمانی دورانیہ ختم ہونے کے بعد کابینہ کے بعض وزراء کے سیاہ کارنامے منظر عام پر آنا شروع ہوگئے ہیں،ایک تحقیقاتی رپورٹ کے دوران میونسپل کارپوریشن میرپور کی گاڑیوں کے بارے میں انکشاف ہوا کہ آزاد کشمیر کے گوجرانوالہ میں مہاجرین کی نشست سے منتخب ہونے والے ایک ن لیگی وزیر چوہدری اسماعیل گجر نے اپنی ہی حکومت کے گذکورننس اور میرٹ کی دھجیاں بکھرتے ہوئے اپنے داماد احمد شریف گجر کومیونسپل کارپوریشن میرپور میں اڑھائی سال قبل ٹیکس آفیسر تعینات کیا اور بعدازاں ان کا تبادلہ ٹیکس آفیسر بلدیہ کوٹلی کردیا گیا،لیکن موصوف اپنے سسر کے اثر و رسوخ کی بنیاد پر میونسپل کارپویشن میرپور کی گاڑی نمبری AJKG-340سوزکی لیانابھی اپنے ساتھ کوٹلی کے گئے اور گزشتہ اڑھائی سال سے مذکورہ گاڑی موصوف نے ایک وزیر کا داماد ہونے کے ناطے خلاف قانون و قواعد سینہ زوری سے اپنے زیر استعمال رکھی ہوئی ہے،اسی طرح مزید معلوم ہوا ہے کہ آزاد کشمیر کے سابق وزیر بلدیات راجہ نصیر احمد خان نے اپنے ایک بھانجے راجہ مجاہد کو ڈیڑھ سال قبل میونسپل کارپوریشن میرپور میں ٹاؤن پلانر کا اضافی چارج دیا جنہوں نے شعبہ تجاوزات میں ایس ڈی او کی گاڑی نمبر MRGO-356ٹیوٹا ہائی لکس وزیر بلدیا ت کا بھانجا ہونے کے ناطے دبا لی اور سوا سال قبل میونسپل کارپوریشن میرپور سے برنالہ تبادلہ ہونے کے باوجود مذکورہ گاڑی دھونس دھاندلی اور سینہ زوری سے دبا رکھی ہے۔مذکورہ دونوں آفیسران سے گاڑیوں کی بابت ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن میرپور نے گاڑیوں کی واپسی کیلئے کئی بار تحریری طور پر تحریک کی جبکہ دونوں گاڑیوں کے خلاف قانون اور اختیارات کے ناجائز استعمال بارے آڈٹ ٹیموں نے آڈٹ پیرے بھی لگا رکھے ہیں لیکن دونوں آفیسران کے کان پر تاحال جوں تک نہ رینگی ہے حالانکہ دونوں گاڑیوں کے استعمال کے نتیجہ میں دونوں افسران کے ذمہ لاکھوں روپے کرایہ بھی تحت قانون واجب الاد بنتا ہے تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ منہ زور سابق وزیر بلدیات راجہ نصیر نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے بھانجے راجہ مجاہد کو شعبہ تجاوزات کے ایس ڈی اوکی مذکورہ گاڑی تفویض کرنے کیلئے تحریر ی احکامات بھی جاری کیے تھے۔لیکن تحت قانون و قواعد ان کے تبادلے پر موصوف کو گاڑی ساتھ لے جانے اور خلاف قانون اپنے پاس رکھنے کا کوئی اختیار نہ ہے دونوں سابق وزراء کے دونوں چہیتے قریبی رشتہ داروں کو میونسپل کارپوریشن میرپور کے حکام کی طرف سے بار بار زبانی اور تحریری طور پر گاڑیوں کی واپسی کیلئے تحریک کی گئی مگر دونوں افیسران نے کسی بھی تحریک کا جواب تک دینا گوارہ نہ کیا اور اب آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی نئی حکومت کے قیام کے بعد بھی میونسپل کارپویشن میرپور کی دونوں مذکورہ گاڑیاں ن لیگی سابق دو وزراء کے دو چہیتے رشتہ دار افیسروں کے تاحال زیر استعمال ہے جنکی واپسی اور مذکورہ آفیسران کے خلاف تحت قانون کارروائی پی ٹی آئی کی حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.