مینار پاکستان واقعہ

مینار پاکستان واقعہ، پولیس نے متاثرہ لڑکی کے دوست کو بھی شامل تفتیش کر لیا

عائشہ کے دوست ریمبو کے حوالے سے کئی اہم انکشافات بھی سامنے آگئے، دونوں مل کر ٹک ٹاک ویڈیوز بناتے رہے
لاہور( 20 اگست2021ء) مینار پاکستان واقعہ، پولیس نے متاثرہ لڑکی کے دوست کو بھی شامل تفتیش کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق مینار پاکستان پارک میں عائشہ نامی خاتون کیساتھ بد-سلوکی کے واقعے کی تفتیش کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس نے متاثرہ لڑکی عائشہ کے دوست ریمبو کو بھی شامل تفتیش کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق ریمبو اور عائشہ مل کر ٹک ٹاک ویڈیوز بناتے ہیں، ریمبو ہی عائشہ کو مینار پاکستان پر لے کر گیا تھا۔ ریمبو کے حوالے سے کئی انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریمبو کچھ عرصہ سے عائشہ کے گھر پر مقیم تھا، عائشہ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی ریمبو چلاتا ہے۔ عائشہ کے والدین اس کے دوست ریمبو کے شدید خلاف ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ عائشہ ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا سے متعلق تمام سرگرمیاں ریمبو کے مشورے سے ہی کرتی ہے۔ دوسری جانب پولیس نے مذکورہ کیس کے مقد-مہ میں مزید 2 دفعات کا اضافہ کردیا ہے۔یف آئی آر میں کہا گیا کہ پہلے مذکورہ مقد-مہ میں 4 دفعات لگائی گئیں تھیں، خاتون سے دست درازی کی دفعات لگائی گئیں تھیں، لیکن اب مزید2 دفعات 509 ٹو اور 342 شامل کی گئیں ہیں۔ مزید برآں محکمہ پراسیکیوشن نے گریٹر اقبال پارک میں اوباش نوجوانوں کی ہراسمنٹ کا شکار ہونے والی ٹک ٹاکر لڑکی عائشہ اکرم کی تفتیش کے حوالے سے 7 اہم نکات پر مشتمل ایک مراسلہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سمیت تھانہ لاری اڈہ کے تفتیشی افسر کو ارسال کردیا ہے جس میں پراسیکیوشن برانچ نے تفتیشی افسر سے استدعا کی ہے کہ بھیجے گئے سات نکات پر ہر طریقے سے مکمل تفتیشی کی جائے۔پولیس ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور آئی او کو بھیجے گئے نکات میں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرم کے وقوعہ کے روز پہنے گئے کپڑے تفتیشی ٹیم اپنی تحویل میں لے لے۔ نکات میں لڑکی عائشہ اکرم کے نمونہ جات ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے حاصل کئے جائیں۔ متاثرہ لڑکی عائشہ اکرم کے ساتھ آنے والے افراد کے بیانات قلم بند کئے جائیں۔ اس کیس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جانے والی آڈیو اور ویڈیو کی تصاویر حاصل کی جائیں۔ مشکوک افراد کی نادرا سے تصدیق کروائی جائے اور گرفتار ملزمان کی متاثرہ لڑکی سے شناخت کروائی جائے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کی تفتیش کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.