معنی خیز پیشگوئی کردی

”کالم نگار توفیق بٹ نے معنی خیز پیشگوئی کردی“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مینار پاکستان میں ایک خاتون (ٹک ٹاکرہ) کے ساتھ جو بدسلوکی ہوئی، بدسلوکی کرنے والے اُس کے اپنے تھے یا باہر کے تھے، یہ عمل انتہائی شرمناک انتہائی قابل مذمت ہے، یقین کریں سوشل میڈیا اِس واقعے کو اگر ہوا نہ دیتاخاتون کے لیے یہ شاید معمول کا ایک عمل ہوتا، خاتون کو مبارک ہو جو شہرت کئی برسوں کی جدوجہد کے بعد بھی اُسے شاید نہ ملتی، ایک واقعے نے ایسی ”پارسائی“ اُسے بخش دی اب جس لباس میں اِس واقعے کے بعد وہ نظر آتی ہے ممکن ہے مستقبل میں وہ ہماری اعلیٰ پائے کی ایک ”موٹی ویشنل سپیکر“ ہو، یا ہم اُسے بہت بڑی مذہبی سکالر تسلیم کرلیں، جس طرح کا حوصلہ یوم آزادی پر مینار پاکستان پر بدسلوکی کا شکار ہونے والی خاتون کا ہے، یا کم ازکم ہمارا ”چاکا“ اُسی طرح کا کھلا ہونا چاہیے، پر پانچویں محرم الحرام کو میرے ساتھ ”سانحہ“ یہ ہوا، کراچی سے میری ایک عزیزہ ہمارے گھر آئی ہوئی تھیں، اُن کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی، ڈرائیور چھٹی پر تھا، کوئی اور خدمت گزار بھی اُس وقت گھر پر نہیں تھا جسے میں اُن کے لیے میڈیسن لینے بھیج دیتا، مجبوراً مجھے خود جانا پڑا، جشن آزادی کے طوفان بدتمیزی میں اپنے گھر شادمان سے فیروزپور روڈ تک کا سفر جو عام حالات میں تقریباً تین چارمنٹ کا ہے، مجھے اڑھائی گھنٹے میں طے کرنا پڑا۔ اور واپسی کا سفر ملا کر چار گھنٹے بعد میں گھر آیا ہوش اُڑے ہوئے تھے، یوں محسوس ہورہا تھا جیسے کسی دوردراز ملک سے پیدل سفرطے کرکے میں گھرواپس پہنچا ہوں، ……جس واہیات انداز میں ہماری نوجوان نسل کے ایک حصہ نے اپنی اپنی گاڑیوں میں اُونچی اُونچی آوازوں میں انڈین گانے لگائے ہوئے تھے یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا یہ پاکستان کا یوم آزادی منارہے ہیں یا ہندوستان کا منارہے ہیں؟، ٹریفک بُری طرح جام تھی، اور اِس میں بے شمار ایمبولینسز بھی پھنسی ہوئی تھیں۔ اُن ایمبولینسزکو راستہ دینے کی ہلکی سی کوشش بھی کوئی نہیں کررہا تھا، چنانچہ میرے اِس یقین میں مزید اضافہ ہوگیا یہ معاشرہ مکمل طورپر بے حِس ہوچکا ہے، اور یہ سڑکوں پر جو ہجوم دکھائی دے رہا ہے یہ اُس معاشرے کی بھرپور نمائندگی کررہا ہے، ایک زمانہ تھا کسی ایمبولینس کے ”ایمرجنسی ہارن یا سائرن“ کی آواز سن کر دل ڈوب جایا کرتے تھے، لوگ اُس ایمبولینس (چاہے وہ خالی ہی کیوں نہ ہوتی) اُسے راستہ دینے کی ہرممکن کوشش کرتے تھے، اب ایمبولینس میں چاہے کوئی مریض آخری سانسیں ہی کیوں نہ لے رہا ہو، اُس کے ایمرجنسی سائرن یا ہارن کو بھی عام گاڑی کا ایک ہارن سمجھ کر نظرانداز کردیا جاتاہے،بے حِسی کی انتہا ہوگئی ہے اور اِس تناظر میں بے بسی کی بھی انتہا ہوگئی ہے، پہلے ہمارے ہاں حادثے ہوتے تھے اب سانحے ہوتے ہیں، چندروز پہلے ایک سانحہ یہ بھی شاہراہ قائداعظم لاہور پر میں نے دیکھا ایک بہت بڑی گاڑی میں سوار کوئی بے حِس اور دولت کے سرور میں مست نوجوان جان بوجھ کر اپنی گاڑی کے پیچھے ایمبولینس کو راستہ نہیں دے رہا تھا، ایمبولینس کے مسلسل ہارن بجانے پر اُس نے اپنی گاڑی ایمبولینس کے آگے کھڑی کردی،اور اپنی گاڑی سے باہر نکل کر ایمبولینس کے ڈرائیور کو مغلطات بکنے لگا، بلکہ اُسے ایمبولینس سے باہر نکالنے کی کوشش بھی کی، ظاہر ہے اُس کا ارادہ ڈرائیور کو زدوکوب کرنے اور اُسے سبق سکھانے کا ہی ہوگا۔ میں نے اِس موقع پر یہ کردار ادا کیا اُس دولت مند کی گاڑی کو تھانے میں بند کرواکر اُس کے خلاف ایف آر درج کروائی، مجھے یقین ہے اُس کے بعد ایمبولینس کیا، کسی سائیکل والے کو بھی ”ٹلی“ بجانے پر راستہ دینے پر وہ مجبور ہو جاتا ہوگا، …… مہذب معاشروں میں کسی سڑک پر کسی ایمبولینس کو راستہ نہ دینا قانوناً جُرم ہے، وہاں کم ازکم اِس قانون کو توڑنے کا تصور بڑے سے بڑا قانون شکن بھی نہیں کرسکتا، مہذب معاشرے راستے دیتے ہیں، ہم راستے روکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *