محرم الحرام کا وظیفہ

محرم الحرام کا وظیفہ

دست غیب کیلئے سورۂ طلاق اکتالیس دن عشاء کے بعد ایک مرتبہ پڑھیں اور جب آیت نمبرتین پر پہنچیں تو اس آیت کو اکتالیس مرتبہ پڑھیں اور پھر باقی سورۂ مکمل کرلیں۔ انشاء اللہ صرف گیارہویں روز ہی سے غیب سے روزی ملنا شروع ہوجائے گی اسلامی سالِ نو کا آغاز ماہِ محرم الحرام سے ہوتا ہے ، ماہِ محرم نہایت ہی فضائل وبرکات کا حامل مہینہ ہے ، یہ مہینہ اپنے خصوصیات اور امتیازات کی وجہ سے دیگر ماہ وشہور سے علاحدہ شناخت رکھتا ہے ، اس ماہِ حرام کی حرمت اور تعظیم زمانۂ جاہلیت سے چلی آرہی تھی، لوگ اس ماہِ مقدس میں اپنی لڑائیاں موقوف کردیا کرتے تھے،اور جنگ وجدال سے باز آتے تھے، گویا یہ ماہِ مقدس نہ صرف اسلام میں برکت وفضائل کاحامل قرار پایا ؛ بلکہ اس کا تقدس واحترام اور اس کی قدر وعظمت زمانہ جاہلیت سے بھی چلی آرہی تھی ، اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں اس ماہ کی عظمت وحرمت کا اعلان کیا ہے ’’بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے ان میں سے چار عزت والے ہیں‘‘(سورۃ التوبۃ:۳۶)جو ذولقعدۃ ، ذوالحجہ ، محرم اور رجب ہیں جس کا تذکرہ حدیث میںآیا ہے ۔ اسلام کی آمد کے بعد بھی اس ماہ کی حرمت وعظمت کو اس کی سابقہ حالت میں برقرار رکھا گیا کہ یہ حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام کے باقیات میں سے تھے جس کو لوگ اپناتے آرہے تھے، چنانچہ قرآن وحدیث میں اس ماہ کو ’’شہر الحرام‘‘ (حرمت کا مہینہ) اور شہر اللہ( اللہ کا مہینہ) قرار دیا گیا ہے ،چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد نبوی ﷺ ہے: ’’سب سے زیادہ فضیلت والے روزے رمضان کے روزوں کے بعد اللہ کے مہینہ محرم الحرم کے روزے ہیں ‘‘ (مسلم: باب فضل صوم المحرم ، حدیث:۲۸۱۳) امام نووی فرماتے ہیں کہ : اس روایت میں نبی کریم ﷺ نے ماہ محرم کو اللہ عزوجل کا مہینہ قرار دیا ہے جو اس کی عظمت اور تقدس کو بتلانے کے لئے کافی ہے؛ چونکہ اللہ عزوجل اپنی نسبت صرف اپنی خصوصی مخلوقات کے ساتھ ہی فرماتے ہیں (شرح النووی علی مسلم:۸؍۵۵)۔

Sharing is caring!

Comments are closed.