ماہ محرم کے روزے

ماہ محرم کے روزے

ماہِ محرم کے روزوں کی بھی فضلیت وارد ہوئی ہے، تمام مہینہ کے روزوں کے بابت بھی نبی کریم ﷺ نے تلقین فرمائی ہے ،نعمان بن سعد، علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے علاوہ کون سے مہینے کے روزے رکھنے کا حکم فرماتے ہیں، حضرت علی نے فرمایا: میں نے صرف ایک آدمی کے علاوہ کسی کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے نہیں سنا، میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا ،اس نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ مجھے رمضان کے علاوہ کون سے مہینے میں روزے رکھنے کا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا :اگر رمضان کے بعد روزہ رکھنا چاہے تو محرم کے روزے رکھا کرو ؛کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالی نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور اس دن دوسری قوم کی بھی توبہ قبول کرے گا ۔(ترمذی: صوم المحرم ، حدیث:۷۴۱)مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح ہے کہ : علامہ سندھی کہتے ہیں کہ اس حدیث میںمکمل مہینہ کے روزوں کے استحباب کو بتلانا ہے۔ اس لئے اس مہینہ میں روزہ رکھنے کا اہتمام کیا جائے ۔(مرعاۃ المفاتیح، ۷؍۴۳،الجامعۃ السلفیۃ بنارس)

Sharing is caring!

Comments are closed.