فوری پی سی آر ممکن نہیں

متحدہ عرب امارات جانے والے مسافروں کے فوری پی سی آر ممکن نہیں، سول ایوی ایشن

کراچی: سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل خاقان مرتضیٰ نے واضح کیا ہے کہ یو اے ای جانے والے مسافروں کی فوری پی سی آر ریپڈ ٹیسٹنگ ممکن نہیں ہے، مسائل حل کرنے میں دو ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے۔سول ایوی ایشن ہیڈ کوراٹرز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سول ایوی ایشن (سی اے اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات جانے والے مسافروں کی اضافی تعداد کی وجہ سے پی سی آر ریپڈ ٹیسٹنگ میں دشواری کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ،اماراتی حکام کی جانب سے پی سی آر رپیڈ ٹیسٹ کے لیےلیبارٹریز منتخب کرنا ایئرلائنز کا کام ہے، پاکستانی لیبارٹریز نے پی سی آر ریپڈ ٹیسٹ کے مشینوں کو آلات کے لیے آرڈر دے دیے ہیں، جلد یہ مشینیں پاکستان پہنچ جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ’ سی اے اے ملک کےتمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ایئرلائن کی منتخب کردہ لیبارٹریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی، سول ایوی ایشن کی جانب سے کمرشل پائلٹ لائسنس کےاجرا میں پہلے مرحلے میں 50 فیصد اور دوسرے مرحلے میں 25 فیصد سبسڈی دینے کے لیے حکومت کو تجویز پیش کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے سی اے اے گوادر سمیت شمالی علاقہ جات کے ایئرپورٹس کو اپ گریڈ کرنے کا عمل شروع کردیا ہے،جس کے پہلے مرحلے میں اسکردو ایئرپورٹ کو عالمی ہوائی اڈے کا درجہ دیا جارہا ہے، جبکہ گلگت میں نئے ایئرپورٹ کے قیام کے لیے جگہ کا تعین کیا جارہا ہے،جس کے بعد بڑے جہازوں کی آمد ممکن ہوسکے گی۔انہوں نے بتایا کہ ’سول ایوی ایشن کی زمینوں کے حوالے سے خرد برد میں ملوث افسران کے کیس نیب اور ایف آئی اے کو بھیجے گئے ہیں، والٹن ایئرپورٹ کی زمین سے پنجاب حکومت کی پیش کش کو سی اے اے نے مسترد کردیا اور شرکت داری کی بنیاد پر وفاقی کابینہ نے سی اے اے کی تجویز کو منظور کیا ہے۔’والٹن ایئرپورٹ پر متعدد فلائنگ کلبس قائم ہیں، شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ان کلبس کو بند کیا گیا ہے‘۔ خاقان مرتضیٰ کے مطابق سول ایوی ایشن کو بین الاقوامی ایوی ایشن آرگنائزیشن قوانین اور ہدایات کے تحت دو حصوں میں تقسیم کیا جارہا ہے، جس کے بعد شہری ہوا بازی کے معاملات بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ ’سی اے اے کا سیفٹی آڈٹ کرونا وبا کے باعث زیر التوا ہے، صورت حال بہتر ہوتے ہی آڈٹ کا آغاز کیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.