فورجی سروس کی فراہمی کا منصوبہ

حکومت کا 27 سیاحتی مقامات پر فورجی سروس کی فراہمی کا منصوبہ  ابوسر ٹاپ ، لولوسر جھیل ، بابوسر پاس ، سیف الملوک جھیل پر موبائل سروسز فراہم کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی، مشک پوری پیک اور گلیات کے دیگر علاقوں میں بھی موبائل فون سروسز فراہم کی جائیں گی۔ ذرائع

اسلام آباد ( 14 اگست 2021ء ) حکومت نے سیاحتی مقامات پر فورجی سروس کی فراہمی کا منصوبہ تیار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے ملک بھر میں موبائل کوریج سے محروم سیاحتی مقامات پر فورجی سروس کی فراہمی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ، اس مقصد کے لیے 27 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان علاقوں میں جلد ہی موبائل سروس فراہم کی جائے گی۔بتایا گیا ہے کہ یونیورسل سروس فنڈ کی جانب سے سیاحتی مقامات پر فورجی سروسز کی فراہمی کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور جلد ہی ملک بھر میں 27 مختلف مقامات پر موبائل فون سروسز فراہم کردی جائے گی ، جن میں بابوسر ٹاپ، لولوسر جھیل، بابوسر پاس، سیف الملوک جھیل پر بھی موبائل سروسز فراہم کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہےجب کہ مشک پوری پیک اور گلیات کے دیگر علاقوں میں موبائل فون سروسز فراہم کی جائیں گی ، جس کے لیے ٹینڈرز جاری کر دیئے گئے ہیں اور بولیاں وصول ہونے کے بعد سروسز کی فراہمی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا اور یو ایس ایف بورڈ کی مںظوری کے بعد فور جی سروسز فراہم کردی جائیں گی۔ علاوہ ازیں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے 19 کمپنیوں کو موبائل فونز بنانے کی اجازت دے دی ، کمپنیوں کو تھری جی اور فور جی کی تیاری کے لئے ڈیوائس بنانے کی اجازت ہوگی ، اگلے 10 سال کے لیے مینوفیکچررز اپنے برانڈز بھی تشکیل دے سکیں گے ، جب کہ مینوفیکچررز کے ذریعے تیار کردہ موبائل ڈیوائسز مسابقتی مارکیٹوں میں برآمد بھی کیے جا سکیں گے۔یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ حال ہی میں حکومت کی جانب سے موبائل مینوفکچرنگ پالیسی کی منظوری اور ٹیکس میں چھوٹ دئیے جانے کے بعد تین بین الاقوامی موبائل ساز کمپنیوں نے اپنے مینوفکچرنگ پلانٹ پاکستان میں لگانے کا فیصلہ کیا ، معروف موبائل فون ساز کمپنیوں ائیر لنک، ایڈوانس ٹیلی کام اور ویوو نے پاکستان میں اپنے مینوفکچرنگ پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا ، مذکورہ سمارٹ فون کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے پلانٹ لگانے کا فیصلہ حکومت ِ پاکستان کی جانب سے دئیے جانے والی ٹیکس میں چھوٹ کی وجہ سے کیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.