غیر ملکی کارکنان کو انصاف مل گیا

سعودیہ میں تنخواہوں سے محرم ہزاروں غیر ملکی کارکنان کو انصاف مل گیا

ریاض ( ۔24 اگست 2021ء) سعودی عرب میں روزگار کی خاطر لاکھوں تارکین وطن مقیم ہیں۔ کورونا کی وبا کے دوران بڑی گنتی میں ملازمین کی نوکریاں ختم ہوئیں اور لاکھوں ایسے بھی ہیں جن کو کمپنیوں نے کئی کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی تھیں۔ متاثرہ کارکنان کی جانب سے سعودی وزارت افراد ی قوت سے رابطہ کر کے اپنی مشکلات سے آگاہ کیا گیا، جس کے بعد وزارت کے مصالحتی ادارے نے غیر ملکیوں کے تیس لاکھ ریال واپس دلا دیئے ہیں۔اُردو نیوز کے مطابق متعلقہ کیسز میں آجروں نے کسی وجہ کے بغیر معاہدہ ختم کردیا تھا جب کہ ملازمت کے اختتام پر دیے جانے والے مالیاتی حقوق، الاونس اور واجب الادا تنخواہیں نہیں دی گئی تھیں۔وزارت افرادی قوت کے ماتحت ادارے مصالحت نے ذریعے کارکنوں کو تمام مالیاتی حقوق دلادیے۔اس سلسلے میں وزارت افرادی قوت آجر اور اجیر کے اختلافات نمٹانے کے لیے سب سے پہلے مصالحتی طریقہ کار اختیار کرتی ہےاس حوالے سے فریقین کا موقف سنا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ ثالٹی کے ذریعے ایسا حل نکالا جائے جو فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔اگر فریقین اپنے موقف سے دستبردار ہونے پر راضی نہیں ہوتے تو ایسی صورت میں مصالحت کے لیے مقرر21 روز پورے ہونے پر مقدمہ لیبر کورٹ کے حوالے کردیا جا تا ہے۔دوسری جانب سعودی وزارت انصاف نے کہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران لیبر کورٹس نے ایک لاکھ 10 ہزار فیصلے جاری کیے ہیں جبکہ تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ سماعتیں ہوئیں۔رواں برس دو ہفتے سے کم مدت میں 16 ہزار مقدمات پیش کیے گئے ہیں۔ان میں سے تیس فیصد مقدمات پہلی پیشی پر نمٹا دیے گئے جبکہ چالیس فیصد مقدمات دو پیشیوں میں نمائے گئے۔ تیس فیصد مقدمات کا فیصلہ تین پیشیوں میں ہوا ہے۔ وزارت انصاف نے بتایا کہ لیبر کورٹس میں پیشیوں کا اوسط ہر روز 647 تک کا ہے مصالحتی عمل میں 21 دن تک لگتے ہیں۔ مصالحتی کارروائی لیبر کورٹس میں مقدمہ پیش کرنے سے پہلے کی جاتی ہے۔وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ اگر 21 روز کے دوران فریقین مصالحت میں ناکام ہوجائیں تو ایسی صورت میں مقدمہ لیبر کورٹ میں پیش کیاجاتا ہے۔وزارت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ا?ن لائن ہوتی ہے Najiz.sa پر مقدمہ درج کرایا جاسکتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *