غیر ملکی ملازمین کی چھُٹی کرا دی گئی

سعودیہ میں ایک اور شعبے سے ہزاروں غیر ملکی ملازمین کی چھُٹی کرا دی گئی

ریاض(6 اگست 2021ء) سعودی عرب میں گزشتہ تین سال کے دوران مقامی آبادی کو روزگار دلانے کے لیے لاکھوں غیرملکی کی ملازمتیں ختم کر کے انہیں مملکت سے واپس بھیج دیا گیا ہے۔ چونکہ سعودی عرب میں سب سے زیادہ غیر ملکی ملازمین پاکستانی ہیں اس لیے سعودائزیشن کے نتیجے میں سب سے زیادہ وہی بے روزگار ہوئے ہیں۔ اب ایک بار پھر پاکستانیوں سمیت ہزاروں غیر ملکیوں کی ایک اور شعبے سے چھُٹی ہو گئی ہے۔فصیلات کے مطابق سعودیہ میں ان ڈور تجارتی مراکز اور شاپنگ مالز میں ملازمت کرنے والے غیر ملکیوں کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ 4 اگست بروز بُدھ سے اس فیصلے پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ سعوی وزیر برائے انسانی وسائل و سماجی بہبود احمد بن سلیمان الراجحی نے اپریل کے مہینے میں وزارتی فیصلہ جاری کیا تھا جس کے تحت ان ڈور تجارتی مراکز بشمول شاپنگ مالز میں غیر ملکیوں کی جگہ سعودیوں کو ملازمتیں فراہم کی جانا تھیں۔متعلقہ تجارتی و کاروباری اداروں کو فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے لیے 120 روز کی مہلت دی گئی تھی جو 3 اگست 2021ء کو ختم ہو گئی تھی۔ جس کے بعد اب کمرشل کمپلیکسز میں ملاز مت کرنے والے غیر ملکیوں کو فارغ کر دیا گیا اور ان کی جگہ سعودی نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔ وزارت کی جانب سے انسپکشن بھی شروع کر دی گئی ہے، جن مراکز میں نئے ضوابط پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، ان کے خلاف کارروائی کی جا ئے گی۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل سعودی حکومت نے مزید 6شعبوں اور پیشوں میں سعودائزیشن کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے جس کے نتیجے میں ان شعبوں سے ہزاروں غیر ملکیوں کا دانا پانی ختم ہو جائے گا اور ان کی جگہ مقامی نوجوان لڑکے لڑکیاں ملازمتیں حاصل کریں گے۔اس سے 40 ہزار سے زائد مقامی افراد کو نوکریاں دی جائیں گی۔ سعودی وزیر کے مطابق ان شعبوں میں ریئل اسٹیٹ کی سرگرمیوں، سینما سیکٹر، ڈرائیونگ اسکول، لیگل فرمز، کسٹم کلیئرنس سمیت کئی تکنیکی اور انجینئرنگ کے پیشے شامل ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.