غیر ملکیوں کو بڑی راحت مل گئی

سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں سمیت لاکھوں غیر ملکیوں کو بڑی راحت مل گئی

ریاض (17 اگست 2021ء) سعودی عرب میں کورونا کی وبا کے بعد مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے وہاں مقیم لاکھوں پاکستانی بھی خاصے پریشان ہیں۔ مہنگائی میں اضافے کی وجہ اشیاء و ساز و سامان پر 10 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا نفاذ ہے جو وبا کے دوران تیل کی معیشت بُری طرح متاثر ہونے کے سبب کیا گیا۔ تاہم اب مملکت مں مقیم افرا د کو مہنگائی میں تھوڑا سا ریلیف مل گیا ہے۔اُردو نیوز کے مطابق سعودیہ میں گزشتہ ماہ کے دوران گوشت اور چاول سمیت47 غذائی اشیا سستی ہوئی ہیں جبکہ مرغیوں کے نرخ بڑھ گئے۔ سب سے زیادہ قیمتیں پاکستانی کینو اور مچھلیوں کی ریکارڈ کی گئی ہیں۔ محکمہ شماریات کا کہنا ہے کہ جولائی میں 36 اشیا کے نرخوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ر قسم کی مچھلی مہنگی فروخت ہوئی ہے۔ تازہ قنعد مچھلی کی قیمت میں 3.14 فیصد جبکہ ہامور مچھلی کی قیمت میں 1.26 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔مقامی تازہ مچھلیوں کے نرخوں میں 1.53 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔-ایک کلو گرام کی تازہ مرغی 15.41 ریال میں دستیاب رہی۔ مقامی فروزن مرغی اور درآمدی مرغی کی قیمت میں 0.92 فیصد اور 0.21 فیصد کا بالترتیب اضافہ ہوا ہے۔ سعودی فروزن مرغی 14.29 ریال اور درا?مدی فروزن مرغی 14.31 ریال میں فروخت ہوتی رہی۔پاکستانی کینو کی قیمت میں 8.52 فیصد اضافہ ہوا۔ ایک کلو 7.39 ریال میں دستیاب رہا۔درآمد شدہ بکرے کا گوشت 0.8 فیصد سستا رہا۔ ایک کلوگرام گوشت کی قیمت 46.09 ریال رہی۔ تازہ بکرے کا گوشت 0.13 فیصد سستا فروخت ہوا- ایک کلوگرام کی قیمت 60.38 ریال ریکارڈ کی گئی۔سفید انڈین باسمتی چاول کی قیمت میں 0.67 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور وہ 90.32 ریال میں دستیاب رہا جبکہ انڈین چاول 1.26 فیصد مہنگا 74.82 ریال میں فروخت ہوتا رہا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.