عبرتناک شکست کا سامنا کیوں کرنا پڑا

امریکا ‘نیٹواور افغان فوجوں کو عبرتناک شکست کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟

کابل(ا نٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 اگست ۔2021 ) طالبان نے کابل سمیت پورے افغانستان جس برق رفتاری سے قبضہ کیا ہے اس نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے جبکہ امریکی اور اس کے اتحادیوں کی تربیت یافتہ اورجدید ترین ٹیکنالوجی اورہتھیاروں سے لیس افغان سیکورٹی فورسز کچھ نہ کر سکیں. حالیہ دنوں میں جب طالبان نے ملک بھر میں قبضہ کرنے کی کوشش کی تو مغربی حمایت یافتہ ”ٹیکنوکریٹ “ حکمران ڈالروں سے چار گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر لے کر صدارتی محل سے نکلے اور نہ صرف ڈالروں سے بھرے جہازکے ساتھ افغانستان سے فرار ہوگئے بلکہ اضافی رقم انہیں ایئربیس پر ہی چھوڑنا پڑی جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ طالبان کے ہاتھ لگ گئی ہے یہ رقم بھی کروڑوں ڈالروں میں بنتی ہے.تجزیہ نگاروں کے مطابق شاید ڈالروہ وجہ تھے جو اشرف غنی اور ان کے ساتھیوں کے مستعفی ہونے کی راہ میں رکاوٹ تھے اور جونہی انہیں کیش میں موجود یہ بھاری رقم ”ٹھکانے“لگانے کا موقع ملا وہ اپنے سرپرستوں امریکا اور نیٹو کو بھی بتائے بغیرخاموشی سے تاجکستان سے رارہوگئے. انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس رقم کا سراغ لگائے جو اشرف غنی کابل سے لے کرفرار ہوئے ہیں اور اس رقم کو واپس لایا جائے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پچھلے بیس سالوں میں آنے والے پیسے کا آڈٹ بھی ہونا چاہیے اگر یہ آڈٹ ہوتا ہے اور اس کی رپورٹ منظرعام پر آتی ہے تو واشنگٹن سے کابل تک بڑے بڑے پردہ نشینوں کے چہروں سے نقاب الٹ جائیں گے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا مالی سکینڈل ثابت ہوسکتا ہے.گزشتہ برس اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے انخلا کا اعلان کرتے ہوئے طالبان سے معاہدہ کیا تھا اور ان کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کو محدود کردیا تھا جس کے بعد موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ اگست کے آخر تک ان کے فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے جیسے ہی امریکی انخلا کی حتمی مہلت نزدیک آئی، طالبان نے تیزی سے شہر دَر شہر قبضہ کرنا شروع کیا جس کے بارے میں طالبان کا موقف ہے کہ امریکا نے شبرغان میں بمباری کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی جس کے بعد طالبان بھی معاہدے کے پابند نہیں رہے تھے.

Sharing is caring!

Comments are closed.