عاشق اعوان کی شامت آنے کی اصل وجہ

”جہانگیر ترین گروپ کے لیے ہمدردی فردوس عاشق اعوان کی شامت آنے کی اصل وجہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری خادم حسین اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میڈم ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی ایک ایسی شخصیت ہیں، جن کو اللہ نے بار بار عزت سے نوازا،لیکن ایسا احساس ہوا کہ ڈاکٹر صاحبہ بھی ایک رہنما اور لیڈر ہوتے ہوئے بھی خاکی انسان ہی نکلیں۔صحافی دوست ان کو اُس وقت سے جانتے ہیں، جب وہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں سٹوڈنٹ تھیں اور طلباء سرگرمیوں میں نمایاں ہوتی تھیں، پھر انہوں نے طلباء سیاست ہی میں حصہ لیا۔ ابتدا ہی سے وہ پرجوش رہیں اور پھر فارغ التحصیل ہونے اور ڈاکٹر بن جانے کے بعد انہوں نے مریضوں کی خدمت کی جگہ عوامی خدمت کا بڑا فیصلہ کر لیا،سیاست میں بھی ان کا انداز پرانا ہی رہا اور دبنگ شخصیت کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہیں،انہوں نے بھی دوسروں کی طرح سیاسی جماعتیں تبدیل کیں۔ ایک بار قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں،پیپلزپارٹی کو پسند کیا او رپھر ان کو یہ اعزاز بھی ملا کہ وہ وزیر اطلاعات بنیں،یہ سلسلہ ایک حد تک چلا، اور پھر انہوں نے یہ جماعت چھوڑ دی۔2018ء کا الیکشن ان کے لئے بھیانک خواب تھا۔یہ شکست کھا گئیں، تاہم تحریک انصاف کے باعث ان کو پھر سے احترام ملا اور وہ اطلاعات کی معاونِ خصوصی بن گئیں۔اب مسئلہ یہاں یہ تھا کہ تحریک انصاف کی مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے ساتھ محاذ آرائی کسی طور کم نہیں ہو پا رہی تھی،الزام تراشی کا مسئلہ اپنی جگہ،غیر مہذب اور غیر پارلیمانی طریق کار بھی اختیار کیا گیا،ڈاکٹر صاحبہ نے اس میدان میں بھی اپنے جوہر دکھائے اور ایسے ایسے فقرے چست کئے کہ حیرت ہوتی تھی کہ ایک ڈبل گریجوایٹ خاتون جن کے حلف میں انسانی خدمت ہے،کس نوع کی زبان استعمال کرتی ہیں۔بہرحال یہ بھی نظام قدرت و فطرت ہے۔مادام کو یہاں بھی جھٹکا ملا اور اچانک فارغ کر دی گئیں اور پھر اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے کے مترادف کچھ عرصہ پس منظر میں رہنے کے بعد وہ پنجاب میں ابھر آئیںاور صوبائی وزیراعلیٰ کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات متعین ہو گئیں۔میرا خیال ہے کہ یہ معاونت ملتے ہی ان کے ذہن میں شاید یہ خیال اُجاگر ہوا کہ وفاق میں ہوتے ہوئے شاید کوئی کمی رہ گئی تھی،چنانچہ انہوں نے اس حیثیت سے کسر نکالنا شروع کر دی،ان کے الفاظ سے کوئی بھی محفوظ نہ تھا اور پرانے جاننے والے منہ میں انگلیاں دبا کر سوچتے کہ کیا ہو رہا ہے۔یہ سلسلہ جاری تھا۔اسی دوران جہانگیر ترین والا سلسلہ سامنے آیا اور ایک بڑا گروپ تشکیل پایا تو شک کے بادل پوری پارلیمانی پارٹی اور معاونین پر بھی لہرانے لگے۔یوں بھی ڈاکٹر فردوس عاشق نے غالباً کسی حکمت عملی کے تحت ادھر ”ہتھ ہولا“ رکھا، حالات ایسے تھے اور ہیں کہ یہ ہلکا ہاتھ بھی شبے کی زد میں آ گیا اور وسیم اکرم پلس جو مقبول ہیں، نے اپنے ذرائع سے تصدیق کی تو ان کو یقین ہو گیا کہ مادام بھی اس معاملے میں نرم رویہ اختیار کئے ہوے ہیں اور اسی زد میں عون چودھری آئے،البتہ اتنا احترام ضرور کیا گیا کہ عون چودھری کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا تو ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے استعفا لیا گیا۔انہوں نے مستعفی ہونے کو ذاتی وجوہ کہا اور ساتھ ہی پارٹی سے وفاداری کا بھی اعلان کیا۔ان کے ذرائع سے یہ خبر بھی چلائی گئی کہ وہ وفاق میں معاون خصوصی برائے بہبود آبادی نامزد ہو رہی ہیں،لیکن فلک ناروا کو کچھ اور ہی منظور تھا،ڈاکٹر صاحبہ کا اپنا تعلق سیالکوٹ سے ہے،چنانچہ وہ مقامی سیاست کے حوالے سے ضلع بھر میں سرگرم رہتی ہیں۔ڈسکہ ضمنی انتخاب میں بھی متحرک تھیں

Sharing is caring!

Comments are closed.