صدر آزاد کشمیر بنانے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کا بیرسٹر سلطان محمود کو صدر آزاد کشمیر بنانے کا فیصلہ

مظفرآباد ( 09 اگست 2021ء ) پاکستان تحریک انصاف نے بیرسٹر سلطان محمود کو صدر آزاد کشمیر بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کے حالیہ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے صدر پی ٹی آئی اے جے کے بیرسٹر سلطان محمود کو آزاد کشمیر کا صدر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایل اے 3 میرپور سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے بیرسٹر سلطان محمود کو صدر آزاد کشمیر بنانے کی منظوری دے دی ہے۔اس سے پہلے وزیر اعظم آزاد کشمیر نہ بنائے جانے پر بیرسٹر سلطان محمود کا اہم بیان بھی سامنے آیا ، پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ 7 سال پارٹی کو چلایا ، جتوایا اور حکومت میں لایا لیکن ناانصافی پر صرف اتنا ہی کہوں گا کہ ’اس طرح ہی ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘ تاہم میری سیاست کا مقصد عوامی خدمت ہے اور یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔دوسری جانب عبدالقیوم نیازی وزیراعظم آزاد کشمیر کے عہدے کے لیے وزیراعظم عمران خان کو کیسے پسند آئے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہر کوئی جاننا چاہتا ہے، اسی حوالے سے جنگ اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی پہلی اور بڑی کے بعد حکومت سازی کا فیصلہ کیا تو وزیراعظم کے عہدے کے لیے پارٹی سے ایک ایسے شخص کو چننا جو آزاد کشمیر میں انتظامی اور حکومتی سطح پر تبدیلی لا سکے،انتہائی اہم مرحلہ تھا ، اس سلسلے میں وزیراعظم نے تین سوال الگ الگ وزارت عظمیٰ کے چنیدہ امیدواروں کے سامنے رکھے اور تسلی بخش جواب دینے والے کو اس اہم عہدے پر فائز کرنے کا فیصلہ کیا۔وزیراعظم عمران خان نے پوچھا کہ آپ کے پاس کشمیر کے مسئلے کے لیے کیا حل ہے ؟ دوسرا سوال یہ پوچھا کہ آپ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے کیا کریں گے اور تیسرا یہ کہ کشمیر کے عوام کے مسائل کا آپ کے پاس کیا حل ہے ، وزیراعظم نے جن سے انٹرویو کیا ان میں پرانے کھلاڑی خواجہ فاروق،بیرسٹر سلطان محمود اور پہلی بار سیاسی افق پر منظر عام پر آنے والے سردار تنویر الیاس کا انٹرویو کیا ، پھر فیصلہ کیا کہ مزید شخصیات کا بھی انٹرویو کیا جائےجس کے بعد اظہر صادق، دیوان چغتائی ، انصرا ابدالی اور عبدالقیوم نیازی بھی شامل تھے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.