شادی ہوتے ہی دولہا دلہن کی ایک ادا پر فدا ہوگیا

شادی ہوتے ہی دولہا دلہن کی ایک ادا پر فدا ہوگیا
آپ روزانہ اخبارات میں ایسے اشتہارات تو پڑھتے ہوں گے ،شہروں اور قصبوں کی دیواروں پر بھی یہ لکھا نظر آتا ہوگا جو عاملوں

نے لکھوایا اور چھوایا ہوتا ہے کہ محبوب چاہے جتنا بھی ضدی ہو ہمارا ایک کیا ہوا عمل اس کو آپ کے قدموں میں گرا دے گا۔ اکثر نوجوان جو جادو ٹونہ کرنے والے عاملوں کی اس پرکشش ترغیب میں آکر اندھے ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی قسمت آزمائی کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔یہ کام آج سے نہیں ہورہا برسوں سے عاشق نامراد یک طرفہ محبوب کو پانے میں سفلی عمل کراتے ہیں اور جان سے گزر جاتے ہیں۔چند روز پہلے منیب خواجہ نامی ایک فین نے مجھے کراچی سے ایک ایسی کہانی بھیجی ہے جو محبوب کو قدموں میں گرانے والوں کے حالات سے پردہ اٹھاتی ہے۔میرے چچا ناصر نے مرنے سے پہلے اپنی زندگی کا یہ راز بالاخرکھول دیا تھاکہ انہیں ایک امیر عورت سے عشق ہوگیا تھا۔ عشق کیاتھا ایک غرض تھی کہ امیر عورت سے شادی کرنے کے بعد وہ اس کی جائیداد کے مالک بن جائیں گے اور آرام سکون سے زندگی بسر کریں گے۔چچا جس عورت سے بیاہ رچانے کا خواب دیکھ رہے تھے اس کا نام فردوس جہاں بیگم تھا لیکن سب اسے فردوسی بیگم پکارتے تھے۔ چچاکی عمر بیس سال تھی جبکہ اس خاتون کی عمر چالیس سال …. اس نے شادی نہیں کی تھی اور اپنے والدین کی اکلوتی وارث تھی۔ تنہا ایکڑوں میں پھیلی کوٹھی میں رہتی تھی۔اسکی کچھ سرگرمیاں اور معمولات بڑے عجیب تھے لیکن لوگ اس بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کرپاتے تھے کہ کیسی عورت ہے اور اس نے شادی کیوں نہیں کی جبکہ چالیس سال کی عمر میں بھی وہ جوان لڑکیوں جیسی دکھائی دیتی تھی۔چچا فردوسی بیگم کے خانساماں کے دوست تھے اور اسکی مدد سے ہی وہ فردوسی بیگم کے ہاں ڈرائیور بھرتی ہوگئے۔ پہلے وہ فردوسی بیگم کی گاڑی نہیں چلاتے تھے۔ ایک روز اس کا ڈرائیور بیمارہوگیا تو چچا کو فردوسی بیگم کی گاڑی چلانے کا موقع مل گیا۔ فردوسی بیگم چچاکے رویہ اور ڈرائیونگ سے بڑی خوش ہوئی اور اس نے مستقل اپنے ساتھ رکھ لیا۔ یوں چچاکو فردوسی بیگم کے قریب ہونے کا موقع گیا۔وہ تو سمجھتے تھے کہ انکی لاٹری لگ گئی ہے۔ وہ دن رات اس سے بیاہ کے خواب دیکھنے لگے لیکن فردوسی بیگم کی نظر میں چچا کی حیثیت ایک ملازم کی تھی۔کبھی کبھار وہ اسے ”اوبچے سنو….“ کہہ کر پکارتی تو یہ الفاظ ان کے دل پر چھری بن کر گرتے ۔ ان کے دل میں فردوسی بیگم کا دل جیتنے کی تمنا انتہا کو پہنچ گئی ۔ایک روز انہوں نے خانساماں دوست سے اس بات کا اظہار کر دیا۔ اس نے چچا کو مشورہ دیا ”اگر تم واقعی فردوسی بیگم کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو ایک عامل تمہاری مدد کر سکتا ہے۔“خانساماں کا مشورہ سن کر چچا نے پوچھا”کیا واقعی وہ ایسا کام کر سکتا ہے۔“”ہاں مگر پیسے لیتا ہے۔ تم جاﺅ اور بات کرکے دیکھ لو….“ خانساماں نے اس عامل کا نام وپتہ دیا تو چچا دوسرے ہی روز اس کے پاس پہنچ گئے۔ اس کا دفتر شہر کے بارونق بازار میں تھا۔”سوا لاکھ روپے لوں گا۔“ عامل نے چچا کا مسئلہ سن کر کہا۔”اتنی رقم ۔ کہاں سے لاﺅں۔ سچے عشق کا معاملہ ہے۔ رعایت کر دیں۔“ چچا نے اس کی منت کی۔”اتنی بڑی آسامی سے بیاہ کرنا چاہتے ہو اور یہ بھی خواہش ہے ساری عمروہ تمہارے تلوے چاٹتی رہے تو بندوبست کرو….صرف سات دن میں محبوب قدموں میں ہوگا۔“ عامل کی بات سن کر چچا بے حد خوش ہوئے مگر اس دور میں سوا لاکھ روپے کابندوبست کرنا آسان نہیں تھا۔آج سے چالیس سال پہلے یہ رقم کتنی بھاری ہوگی۔ خود اندازہ لگا لیں۔اپنے خواب کی تعبیر پانے کے لیے چچا نے اپنے ایک دوست سے بات کی۔ وہ قبائلی علاقے کا رہنے والا تھا اور فردوسی بیگم کا چوکیدار تھا۔ دونوں نے فردوسی بیگم کی گاڑی چوری کرا دی اور پیسے آپس میں بانٹ لیے۔ یہ انشورنس کی گاڑی تھی۔ انہیں امید تھی فردوسی بیگم کا نقصان پورا ہو جائے گا۔دونوں نے پیسے بانٹ لیے اور چچا کو صرف 75ہزار روپے ملے۔ چچا نے بمشکل ایک لاکھ روپے کا بندوبست کیا اور عامل کی خدمت میں پیش کر دیئے۔”جناب ….اتنا ہی بندوبست کر سکا ہوں۔ باقی پیسے میں کام ہونے کے بعد دوں گا۔“ عامل اتنی موٹی رقم دیکھ کر کوئی عذر پیش نہ کر سکا اور اس نے چچا کو منگل کی رات کو شہر کے گورا قبرستان میں بلوایا اور کہا”میں قبر کا چلہ کراﺅں گا تم سے۔محبوب حاصل کرنے کے لیے قبر میں دفن ہونا پڑتا ہے۔ میں بھی تمہارے ساتھ قبر میں ہوں گا۔“۔

Sharing is caring!

Comments are closed.