سیاسی حالات پیدا ہو رہے

”سینئر پاکستانی صحافی کی تہلکہ خیز خبر“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی و کالم نگار کنور دلشاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افغانستان کی صورتحال سنگین تر ہوتی جارہی ہے اور افغانستان اپنی بقا کی آخری لڑائی لڑ رہا ہے۔ امریکا نے بھی خدشہ ظاہر کردیا ہے کہ آئندہ نوے روز کے اندر تالبان کابل پر قبضہ کرلیں گے۔ بدقسمتی سے امریکا کی قیادت افغانستان میں دو کھرب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود بہترین فوج تیار کرنے میں ناکام رہی اور افغانستان کی سیاسی و فوجی قیادت کھربوں ڈالر کی بدعنوانی میں ملوث رہی اور آج عوام ان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ادھر وطن عزیز میں یہ سیاسی حالات پیدا ہو رہے ہیں کہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ اپنی شرافت کی وجہ سے بیوروکریٹس کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اوربدعنوانی نچلی سطح تک پھیل چکی ہے۔ امن و امان کا مسئلہ درپیش ہے اور وزیرِ اعلیٰ فقط نوٹس لینے پر اکتفا کررہے ہیں۔ ان حالات میں پنجاب کی حکومت تحلیل کرنے کیلئے تحریک ِ عدمِ اعتماد لانے کی درپردہ کوششیں جاری ہیں۔ میری اطلاع کے مطابق چودھری پرویز الٰہی اب جدید ترین جہاز میں سفر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور اس وقت جہانگیر ترین کے حامی 25 کے لگ بھگ ارکان اسمبلی پنجاب حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے میں معاونت کریں گے اور پرویز الٰہی اس گریٹ گیم میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میرا یہ بھی اندازہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنے مفادات میں نواز شریف کے حصار سے باہر نہیں نکلے گی جبکہ شہباز شریف میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔جب امریکی افغانستان سے مکمل طور پر نکلنے والے ہیں اور افغانستان شدید بدامنی کی لپیٹ میں آرہا ہے پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوانوں میں محاذ آرائی زور پکڑرہی ہے اور بلاول بھٹو زرداری امریکہ کا دورہ کر آئے ہیں۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ وزیرِ اعظم اپنے وزرا پر نگاہیں رکھیں کیونکہ ان کے بعض وزرا نے وہی کھیل کھیلنا ہے جس طرح محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی الیکشن میں اپوزیشن کی نمایاں شخصیات درپردہ حکمران جماعت کے ساتھ ملی ہوئی تھیں جن میں مخدوم حسن محمود اور ممتاز محمد خان دولتانہ پیش پیش تھے اور مولانا بھاشانی نے بھی محترمہ فاطمہ جناح کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح میری نظر میں وزیرِ اعظم کے بعض وزرا کی سرگرمیاں بھی مشکوک ہیں۔ سننے میں آ رہا ہے کہ حکومت کو کمزور کرنے کے لیے مارچ 1977ء کی طرز پر کھیل کھیلا جا رہا ہے کیونکہ افغانستان کے حالات کو کنٹرول کرنے لیے مضبوط اور فعال قومی قیادت کی ضرورت ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے ریکارڈ تعداد میں گاڑیاں اور موٹر سائیکلوں کی خریدوفروخت کا ذکر کرکے نچلی سطح کے غریب عوام کو حیران کردیا ہے۔ یہی ووٹرز ان کو 2023ء کے انتخابات میں سبق سکھا سکتے ہیں۔ ڈیم فنڈز میں جو 2018ء میں 13ارب روپے سے زائد جمع تھے‘ حکومت نے یہ رقم سرمایہ کاری میں لگادی ہے‘ اس طرح ڈیم فنڈز میں صرف سات لاکھ روپے کی رقم باقی بچی ہے۔ وفاقی وزیرِ برائے آبی وسائل مونس الٰہی نے قوم کے سامنے یہ حقائق بیان کر دیے ہیں جبکہ وزیرِ اعظم موٹر سائیکلوں کا حساب دے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز نے حقیقت پسندی پر مبنی اپنے ریمارکس میں خوش آئند مؤقف اختیار کرتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو مسترد کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو دینے کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام ووٹنگ مشین تیار کرنا ہے اور پارلیمانی جماعتیں اس کا جائزہ لے کر الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں‘ لیکن اس کے برعکس ایک معاون برملا کہہ رہے ہیں کہ حکومت ہر حالت میں الیکشن الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے کروائے جبکہ ان حالات میں پارلیمانی جماعتوں کو اپنا مضبوط مؤقف اپنا کر واضح پالیسی مرتب کرنا ہوگی۔افغانستان کی بدامنی کے شعلوں سے ہمارا پارلیمانی سیاسی نظام خطرے کی زد میں ہے اور میرا تجزیہ اور حاصلِ کلام یہی ہے کہ جلد ملک میں ایک نگران سیٹ اپ آجائے گا کیونکہ وزیرِ اعظم اندرونی طورپر اپنی حکومت پر گرفت کمزور کرتے جارہے ہیں اور بین الاقوامی تناظر میں پاکستان کو مضبوط مستحکم اور اتفاق رائے سے فعال سسٹم کی ضرورت ہے کیونکہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو وزیرِ اعظم عمران خان پنجاب اسمبلی کو تحلیل کردیں گے اور جونہی انہوں نے یہ اقدام کیا‘ وفاق میں ان کی حکومت خود بخود گر جائے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.