زنجیریں توڑ دی ہیں،وزیراعظم

افغانستان نے ذہنی غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں،وزیراعظم
دوسروں کا کلچر اپنانا ذہنی غلامی ہے،غلامی کی زنجیریں توڑنا بہت ضروری ہے،افغانستان نے ذہنی غلامی کی زنجیریں توڑ دیں،یکساں نصاب آزادی کا اصل راستہ ہے۔وزیراعظم عمران خان کا یکساں نصاب تعلیم کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ( 16 اگست 2021ء ) وزیراعظم عمران خان نے یکساں نصاب تعلیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا 25 سال سے خواب تھا کہ ہمارے ملک میں یکساں نصاب تعلیم ہو،جب سے میرے ذہن میں یہ سوچ تھی تب تک لوگ کہتے رہے کہ یہ نا ممکن ہے،کیونکہ جنہوں نے اس کے فیصلے کرنے تھے ان کے بچے انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھتے تھے اور ان ہی کے لیے ساری نوکریاں تھی۔سول سروس میں جانے کے لیے انگریزی میڈیم پڑھنا ضروری تھا۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ برطانوی حکومت انگریزی میڈیم اس لیے لائے تھے کہ وہ ہندوستان میں اپنا کلچر نافذ کرنا چاہتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آزاد ہونے کے بعد انگریزی میڈیم اس لیے لائے تھے کہ وہ ہندوستان میں اپنا کلچر نافذ کرنا چاہتے تھے۔ہم نے آزاد ہونے کے بعد انگریزی میڈیم کے نصاب کو ایک کرنے کے بجائے اسے جاری رکھا جس کی وجہ سے یہ تفرقہ بڑھتا گیا۔ایلیٹ طبقہ جس نظام سے فائدہ اٹھاتا ہے اسے تبدیل نہیں کرنے دیتا۔دنیا بھر میں یکساں نصاب ہے،یہاں تین نصاب چلتے ہیں۔ یکساں نصاب آزادی کا اصل راستہ ہے،آٹھویں سے دسویں جماعت تک سیرت نبی ﷺ پڑھائی جائے گی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ دوسروں کا کلچر اپنانا ذہنی غلامی ہے۔ افغانستان نے ذہنی غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔غلامی کی زنجیریں توڑنا بہت ضروری ہے۔یکساں نصاب آزادی کا اصل راستہ ہے۔وزیراعظم نے یکساں نصاب تعلیم نافذ کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ مجھے کہتے ہیں یکساں نصاب تعلیم ناممکن ہے لیکن یکساں نصاب تعلیم سے ملک میں فرق ختم ہو جائے گا ، یکساں نظام تعلیم کے رائج ہونے پر وزارت تعلیم کو مبارکباد دیتا ہوں کیوں کہ انگلش میڈیم سے معاشرے میں تقسیم کی فضا تھی اور جو پیسے والے تھے وہ انگلش میڈیم میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور ماضی کے نصاب کی وجہ سے معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا ، پاکستان آزاد ہوا تو یکساں نصاب تعلیم نہ لا کر ہم نے بڑا ظلم کیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.