خواتین کو یونیورسٹی تک تعلیم

طا-لبان کا خواتین کو یونیورسٹی تک تعلیم کی اجازت کا اعلان

کابل ( 17 اگست 2021ء ) افغانستان میں طال-بان نے خواتین کو یونیورسٹی تک تعلیم کی اجازت کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے ’اسکائی نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں طا-لبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ اسلام میں پردہ صرف برقع پہننا نہیں ہے خواتین سے حجاب پہننے کی توقع کی جائے گی ، افغانستان میں خواتین کو کام کرنے اور یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا ، یہی وجہ ہے کہ طا-لبان کے آنے کے بعد بھی ہزاروں سکول چل رہے ہیں۔ علاوہ ازیں افغانستان میں طا-لبان نے خواتین سمیت تمام سرکاری ملازمین کیلئے عام معافی کا بھی اعلان کیا ، طال-بان نے سرکاری ملازمین سے کہا ہے کہ کابل میں حالات معمول پر آرہے ہیں ، کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ، تمام ملازمین معمول کی زندگی کا اعتماد کے ساتھ آغاز کریں اور کام پر واپس آ جائیں ، انہیں ان کی تنخواہیں دی جائیں گی اور کچھ نہیں کہا جائے گا۔طا-لبان کی طرف سے سرکاری ملازمین کے نام پیغام میں کہا گیا کہ اپنے اداروں میں نئے سرے سے کام پر آئیں ، تاہم رشوت ، غبن ، تکبر ، بدعنوانی ، سستی کاہلی اور بے حسی سے بچیں ، جو پچھلے 20 سال سے کسی وائرس کی طرح سرکاری اداروں میں پھیلی ہوئی ہے ، اسی حوالے سے طا-لبان کے سیاسی نائب ملا عبدالغنی برادر نے بھی کہا کہ تمام مرد اور خواتین سرکاری ملازمین کو اپنی ذمہ داریوں پر واپس آنا چاہیئے ، ہم عوام کی خدمت کے لیے پرعزم ہیں اور عوام کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.