خلاف ورزی قرار دے دیا

لاہور ہائیکورٹ نے پسند کی شادی توڑنے کی کوشش کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا

لاہور (17 اگست2021ء) اسلامی قوانین کے تحت ہر مرد اور خاتون اپنی مرضی سے نکاح کرنے میں آزاد ہے، لاہور ہائیکورٹ نے پسند کی شادی پر جوڑے کوہراساں کرنے یا شادی توڑنے کی کوشش کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں پسند کی شادی کرنے پر شادی شدہ جوڑے کو ہراساں کرنے اور اِن کی شادی کو ختم کروانے کی اکثر کوششیں کی جاتی ہیں، اور اِس سب میں لڑکی اور لڑکے کے اپنے ہی رشتہ دار شامل ہوتے ہیں۔اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاء باجوہ نے پسند کی شادی پر ہراساں کئے جانے کے کیس میں قرار دیا ہے کہپسند کی شادی توڑنے کی کوشش کو آئین کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے پولیس کو درخواستگزار خاتون اور اس کے خاوند کو غیرقانونی ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔عدالت نے صائمہ بی بی کی درخواست پر پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے کو عدالتی نظیر بھی قرار دیا ہے۔فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ تحفظ حاصل کرنے کی درخواستوں پر عدالتی احکامات کا غلط استعمال روکنے کیلئے عدالت کو محتاط ہونے کی بھی ضرورت ہے۔پسند کی شادی کے بعد قریبی رشتہ داروں کا اس تعلق کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کا رجحان ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ہرعاقل اور بالغ مسلمان لڑکی کے اپنی مرضی سے نکاح کرنے کا قانونی نکتہ عدالتوں میں طے ہو چکا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.