جماعت بنانے کی تیاریاں مکمل

پاکستان ”2023 کے انتخابات میں بھی تحریک انصاف کو حکمران جماعت بنانے کی تیاریاں مکمل :“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2018 کے انتخابات سے پہلے مسلم لیگ ن کو پاش پاش کرنے کا منصوبہ پورا نہ ہوسکا مگر اس سے پنجاب چھین لیا گیا۔ خیال تھا کہ اگلے عام انتخابات تک پارٹی خود ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر بکھر جائے گی مگر اس کے بھی آثار نظر نہیں آرہے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات ہر صورت پی ٹی آئی کو ہی جتوانے تھے۔ ایسا ہی ہوا مگر مسلم لیگ ن بڑے پیمانے پر ووٹ لے کر یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی کہ اگر انتخابات میں طاقتور ہاتھوں کی مداخلت بند ہوجائے تو اس سے الیکشن چھیننا آسان نہیں۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں کم ووٹوں کے باوجود پیپلز پارٹی کو زیادہ نشستیں دے کر مسلم لیگ ن کو مزید ہزیمت سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے فوری بعد سیالکوٹ میں مسلم لیگ کے سیالکوٹ میں ایک ناقابل تسخیر حلقے میں اس کے امیدوار کو شکست سے دوچار کرکے بتا دیا گیا کہ اگلے الیکشن میں پنجاب میں بھی آزاد کشمیر جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ بات درست ہے کہ آزاد کشمیر کے بعد سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن میں شکست نے مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی میں سراسیمگی پھیلا دی ہے۔ رہی سہی کسر اس وقت پوری ہوگئی جب برطانیہ کی حکومت ایک خلاف توقع قدم اٹھاتے ہوئے نواز شریف کے ویزے کی میعاد میں توسیع کرنے سے انکار کردیا۔یہ الگ بات ہے کہ اس وقت نہ تو نواز شریف واپس آنا چاہتے ہیں اور نہ اسٹیبلشمنٹ یہ چاہتی ہے کہ ان کو واپس لایا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ کی یہی خواہش ہے کہ نواز شریف باہر ہی رہیں اور ملکی معاملات پر بات کرنے سے گریز کریں۔ بہر حال اس وقت صورتحال کچھ یوں ہے کہ مسلم لیگ ن کے قیادت، ارکان اسمبلی اور کارکن تک محسوس کررہے ہیں کہ انہیں نشانہ بنانے کا جو عمل ریاستی سطح پر مختلف اداروں کے ذ ریعے شروع کیا گیا تھا، منصوبہ ساز اسے آگے بڑھانے کے مشن پر لگے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کو اس وقت یہی معاملہ درپیش ہے کہ اس نے بطور جماعت ایسی حکمت عملی بنانی ہے کہ جس سے ارکان اسمبلی اور کارکن بددل نہ ہوں۔ امید کی کوئی کرن نظر آتی رہے اور اچھے دنوں کے انتظار میں وقت یوں ہی گزرتا جائے۔ یہ چیلنج اس لئے بھی مشکل ہے کہ اب واضح طور پر نظر آنا شروع ہوچکا کہ 2023 میں پی ٹی آئی کو پھر سے اگلے پانچ سال کے لئے حکومت سونپنے کے انتظامات تیزی سے مکمل کئے جارہے ہیں۔ کھلی انتخابی دھاندلی تو ہوگی ہی ہوگی اس کے ساتھ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے کر اپوزیشن کے لیے الیکشن کو پیچیدہ تر بنا دیا جائے گا۔ اپوزیشن کے بڑے سیاستدانوں کی عدالتوں سے نااہلی پہلے ہی سے اس گریٹ پلان کا حصہ تھی جس کے تحت دسمبر 2019 تک ایسی تمام شخصیات کی چھٹی کرا دینا مقصود تھا۔مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور پھر پی ڈی ایم کی تحریک نے ایسا زلزلہ پیدا کیا کہ تمام منصوبہ بندی دھری رہ گئی۔ مگر یہ پلان پھر سے زندہ ہوگیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بڑے اعتماد سے بتایا کہ اگلے دو سال میں یعنی عام انتخابات سے پہلے بدعنوانی کے تمام مقدمات کے فیصلے ہو جائیں گے۔یہ خام خیالی ہے کہ اس کی لپیٹ میں صرف ن لیگی ہی آئیں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.