افغانستان میں طا-لبان کی حالیہ پیش قدمی

افغانستان میں ط-البان کی حالیہ پیش قدمی سے بھارت خوف کا شکار ہو گیا
بھارت کو یہ ڈر ہے کہ افغانستان میں طال-بان کے قبضے کے بعد طال-بان جن-جو مقبوضہ کشمیر کا رخ کر سکتے ہیں۔میڈیا رپورٹ
اسلام آباد(14 اگست2021ء) افغانستان میں طا-بان کی حالیہ پیش قدمی سے بھارت پریشان ہو گیا۔بھارت کو یہ بھی ڈر ہے کہ افغانستان میں طا-لبان کے قبضے کے بعد طا-لبان جنگ-جو مقبوضہ کشمیر کا رخ کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ط-البان نے تیزی سے حملے کرتے ہوئے افغانستان کے 2 تہائی سے زائد حصے پر مکمل قبضہ کرلیا اور اب رفتہ رفتہ ان کی پیش قدمی کابل کی جانب جاری ہے جبکہ امریکا اور برطانیہ اپنے شہریوں کو افغان دارالحکومت سے باحفاظت واپس لے جانے کے لیے ہزاروں فوجی تعینات کررہے ہیں۔افغان حکومت 8 روز میں ط-البان کے ہاتھوں ملک کے بیشتر حصے پر قبضہ کھوچکی ہے جس نے کابل کے امریکی حمایتیوں کو بھی دنگ کر دیا ہے۔۔اسی حوالے سے معروف صحافی ندیم منظور سلہری کی رپورٹ کے مطابق طا-لبان قیادت نے امریکی انتظامیہ کے عہدیداران کا آگاہ کیا کہ وہ افغانستان پر قبضہ کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرکے افغانستان میں قیام امن عمل اور اقتدار شراکت داری کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں گے۔طا-لبان سمجھتے ہیں کہ عالمی برادری کے ساتھ کام کرنے کے لیے انہیں کیا حکمت عملی اختیار کرنی ہے۔جب تک افغانستان مشن مکمل نہیں پوتا اس وقت تک کسی بھی ایشو پر حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے امریکی عہدیداران کو پیغام دیا کہ وہ صدر غنی کو کہیں کہ اب بھی وقت ہے کہ وہ مستعفی ہو کر اقتدار ان کے حوالے کر دیں اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر انہیں افغانستان کی سرزمین سے بھاگنا ہو گا۔ امریکا کو خدشہ ہے کہ طال-بان کے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہ دیگر کالعدم تنظیموں کے ساتھ مل کر دنیا کو کسی بڑی جنگ میں نہ دھکیل دیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت اور افغان صدر غنی گروپ خوف کا شکار ہیں۔بھارت کو یہ بھی ڈر ہے کہ افغانستان میں طا-لبان کے قبضے کے بعد طا-لبان جنگ-جو مقبوضہ کشمیر کا رخ کر سکتے ہیں۔دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے افغانستان کو فراہم کیے گئے ملٹری اثاثے ایک ایک کر کے افغان فوج کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.