افغانستان میں داخل ہونا مہنگا پڑ گیا

بھارتی طیارے کو افغانستان میں داخل ہونا مہنگا پڑ گیا
طالبان کی وارننگ کے بعد پائلٹ کو طیارہ واپس موڑنا پڑا، بھارتی طیارہ طویل سفر طے کرتے ہوئے براستہ پاکستان نئی دہلی روانہ ، ذرائع

نئی دہلی (17 اگست2021ء) افغانستان کی فضائی حدود کی بندش کے بعد بھارتی طیارے کو افغانستان میں داخل ہونا مہنگا پڑ گیا، طالبان کی وارننگ کے بعد پائلٹ کو طیارہ واپس موڑنا پڑا، بھارتی طیارہ طویل سفر طے کرتے ہوئے براستہ پاکستان نئی دہلی روانہ ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق کابل پر طالبان کے کنٹرول کے باعث افغانستان کی فضائی حدود اچانک بند کیے جانے کے بعد بھارتی دارالحکومت نئی دہلی جانے والے دو طیارے لاعلمی میں افغان فضائی حدود میں داخل ہوگئے۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پیر 16 اگست کی صبح جب افغانستان کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ائیر پورٹ کابل پر بڑی تعداد میں غیر ملکی مسافروں اور افغان شہریوں کے آنے پر اچانک بھگدڑ مچنا شروع ہوئی تو صورتحال کنٹرول سے باہر ہوگئی۔فغان حکام نے فوری طور پر کابل ائیر پورٹ کو کمرشل پروازوں کی آمدورفت کیلئے بند کردیا اور افغانستان کی فضائی حدود بند کردی۔ایسے میں مالڈووا کی ٹیرا اویا ائیر لائن کی باکو سے دہلی جانے والی پرواز ٹی وی آر 750 مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجکر 40 منٹ پر ترکمانستان کے راستے افغانستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئی تو ائیر ٹریفک کنٹرول نے پرواز کو خبردار کیا جس پر پائلٹ 11 منٹ میں جہاز کو واپس ترکمانستان لے گیا اور پھر ایران اور پاکستان کے راستے منزل پر پہنچا۔ایسا ہی کچھ ائیر انڈیا کی شکاگو سے دہلی جانے والی پرواز اے آئی 126 کے ساتھ ہوا، ائیر انڈیا کا یہ بوئنگ 777 طیارہ ازبکستان کے راستے صبح 10 بجکر 5 منٹ پر افغانستان میں داخل ہوا تو ائیر ٹریفک کنٹرول نے پائلٹ کو خبردار کیا۔پائلٹ نے طیارہ فوری طور پر واپس موڑ لیا اور صرف 4 منٹ میں واپس ازبکستان کی حدود میں داخل ہوکر ترکمانستان اور پھر بھارت میں داخل ہوا۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق طیارہ ایران سے پاکستان میں داخل ہوکر دارالحکومت نئی دہلی جانا تھا مگر روٹ طویل ہو جانے کی وجہ سے فیول ختم ہونے کے خدشے کے پیش نظر پائلٹ نے ایران سے ہی طیارے کا رخ امارات کی طرف موڑ دیا جس کے بعد شارجہ میں لینڈنگ اور ری فیولنگ کے بعد یہ پرواز اپنی منزل دہلی کیلئے روانہ ہوئی۔دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے کی کابل جانے والی پروازوں کی اچانک معطلی کی وجہ یہ ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر ملک چھوڑ کر جانے والوں کا رش لگا ہوا ہے جبکہ کابل ایئرپورٹ پر کوئی سکیورٹی اہلکار بھی موجود نہیں ہے۔ کابل ائیرپورٹ پرامیگریشن اور مسافروں کے سامان کی چیکنگ کے لیے عملہ بھی موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے مسافروں کو ذہنی کوفت اور اذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.