احتیاط سے کام لینا ہو گا

سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں کو اب احتیاط سے کام لینا ہو گا
کچرے کا ڈھیر لگانے، اسے آگ لگانے اور کچرا پانی میں ڈالنے پر 10 برس قی-د ہو گی

ریاض(21 اگست 2021ء) سعودی عرب میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں ، جن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سز-اؤں اور جرما-نوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سعودی حکومت نے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے نیا قانون جاری کیا ہے، جو کچرا جمع کرنے، منتقل کرنے، چھٹائی کرنے، ذخیرہ کرنے، درآمد اور برآمد کرنے، ٹریٹمنٹ اور محفوظ طریقے سے تلف کرنے سمیت تمام پہلووٴں پر مشتمل ہے۔خلاف ورزی پر جر-مانہ اور سزا بھی دی جائے گی۔اُردو نیوز کے مطابق نیا قانون متعارف کرایا گیا ہے اور اس سے متعلق قواعد و ضوابط بیان کیے گئے ہیں۔۔ نئے قانون کے ضوابط عسکری کچرے، ایٹمی اور جوہری فضلے پر نافذ نہیں ہوں گے۔ اس حوالے سے کسی بھی پروگرام کے لیے قومی مرکز سے لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔۔ قانون میں کہا گیا ہے کہ جو شخص کچرا ذخیرہ کرنے، اسے نذر ا?تش کرنے یا کچرے کے ٹریٹمنٹ یا اسے پانی میں ڈالنے یا کچرا تلف کرتے وقت ایسا طریقہ کار اختیار کرے گا جو صحت عامہ کے لیے خطرہ پیدا کرتا ہو یا اس سے ماحول کو نقصان پہنچتا ہو تو اسے 10 برس تک قی-د اور 30 ملین ریال تک جرمانے کی سزا ہوگی۔دونوں میں سے کسی ایک سزا پر بھی اکتفا کیا جا سکتا ہے۔ ۔ علاوہ ازیں نئے قانون میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ اس پر ہر روز کے حساب سے جر-مانہ ہوگا۔ یہ قانون میں مذکور مقررہ جرمانے سے زیادہ نہیں لیا جائے گا۔ ۔ اس حوالے سے انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ اگر قانون کی خلاف ورزی تین سال کے دوران دْہرائی گئی تو ایسی صورت میں سزا دگنی ہوگی۔ ۔ قانون کی خلاف ورزی پر 10 ملین ریال تک کا جر-مانہ ہوگا۔ لائسنس معطل کردیا جائے گا یا چھ ماہ تک کے لیے لائسنس معطل کردیا جائے گا یا اجازت نامہ یا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.