آزادکشمیر بھر کے تمام انتخابی حلقہ جات

مظفرآباد(16-08-2021) سابق وزیراعظم و صدر مسلم لیگ ن آزاد جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے

کہ ستمبر کے مہینے میں آزادکشمیر بھر کے تمام انتخابی حلقہ جات سے 25 جولائی کو عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے دھونس دھاندلی کے ذریعے وزیراعظم پاکستان کے دفتر کو استعمال کر کہ من پسند نتائج حاصل کرنے کے خلاف منظم انداز میں احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز کررہے ہیں۔اس کے دوسرے مرحلے میں مہاجرین جموں وکشمیر کے انتخابی حلقہ جات میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اور آخر میں شاہراہ دستور پر احتجاج ہو گا جس میں مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت بھی شریک ہو گی مہاجرین جموں وکشمیر کے انتخابی حلقہ جات میں انتظامیہ پی ٹی آئی کے پولنگ ایجنٹس کا کردار ادا کرتی رہی اس کے باوجود پی ٹی آئی کو جیتنے کے لیے نتائج کو تبدیل کرنا پڑا انتخابات کے اندر ہونے والی دھاندلی کے شواہد پر مبنی وائیٹ پیپر کی قسط اول تیار کر لی گئی ہے قانون ساز اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں کی گئیں تو پھر بھرپور جواب دینگے آزادکشمیر کے اسٹیٹس اور تشخص کی حفاظت کے لیے تمام ذرائع بروے کار لائے جائیں گے پچیس جولائی کے نتائج کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے اس کے اندر وزیراعظم پاکستان نے تمام اخلاقی قانونی تقاضوں کو روندتے ہوے آزادکشمیر کے اندر مداخلت کی اور اپنی من مرضی کے نتائج کے حصول کے لیے وزیراعظم پاکستان کے دفتر کے تمام تر وسائل اختیارات اور ماتحت اداروں کو استعمال کیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اگر انتخابات آزادانہ منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ہوتے تو پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر آتی یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک پارٹی چھ لاکھ ووٹ لیتی ہے اور اس کی سیٹیں چھبیس اور دوسری پانچ لاکھ ووٹ لیتی ہے اور اس کی نشستیں صرف چھ جبکہ تین لاکھ ووٹ لینے والی جماعت کی گیارہ نشستیں ہیں یہ سب کچھ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا کہ ن لیگ کو فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھا جاسکے مگر اس کے باوجود ن لیگ نا صرف اسمبلی میں موجود ہے بلکہ کسی بھی تقسیم کشمیر کی عمرانی ساز ش کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی حیثیت رکھتی ہے حکومت کے ابتدائی دنوں سے ہی واضح ہو گیا کہ یہاں جتنے بھی عہدیداران بنے ہیں اختیار کسی کے پاس نہیں ہم نے بڑی مشکل اور کٹھن جدوجہد کے بعد ریاست کو اختیارات دلواے مظفرآباد میں فیصلہ سازی واپس لائی اب تو جو حالات بن رہے ہیں وہ انتہائی گھمبیر ہیں قانون ساز اسمبلی کا حلف بطور احتجاج اٹھایا تاکہ حکومت کوفری ہینڈ نا مل سکے آزادکشمیر کے اندر گزشتہ پانچ سالوں کا تقابلی جائزہ کسی بھی دور حکومت سے کر کہ دیکھ لیں یہ دور آئینی مالیاتی انتظامی حوالے سے تاریخ ساز کامیابیوں کا دور ہے جس وقت ہم نے حکومت سنبھالی تو گاڑیوں کے پٹرول کے پیسے تک نہیں تھے آج ہم چھ ارب روپے خزانے میں چھوڑ کرجارہے ہیں پاکستان میں جب مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہوئی تو معاشی و اقتصادی ترقی کے جو عشاریے اس وقت تھے آج تک وہاں تک پی ٹی آٗی نہیں پہنچ سکی کیونکہ انہوں نے ہر شعبہ میں تباہی پھیری اب یہی صورتحال یہاں بھی بننتی جارہی ہے جو انتہائی مایوس کن ہے ہم نے جو کامیابیاں سمیٹیں تھیں ان کا تحفظ بھی کرینگے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.