ہوائی سفر پر پابندی عائد

یکم اگست سے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر ہوائی سفر پر پابندی عائد
عید الاضحیٰ کے موقع پر غیر ضروری نقل و حرکت کو محدود رکھنے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور

اسلام آباد (10 جولائی2021ء) نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرنے ڈیلٹا وائرس کے خطرناک نتائج سے خبر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم اگست سے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر ہوائی سفر کرنے پر پابندی عائد ہوگی۔این سی او سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈیلٹا وائرس درحقیقت بھارتی وائرس ہے جس کو انتہائی خطرناک قرار دے دیا گیا ہے اور پاکستان میں ڈیلٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے لگے ہیں جو کورونا کی چوتھی لہر بھی ہو سکتی ہے۔بیان میں خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر ڈیلٹا وائرس پہ قابو پانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ این سی او سی نے ڈیلٹا وائرس اور پاکستان میں موجود دیگر وائرس کے حوالے سے جامع حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔این سی او سی نے کہا کہ اس وائرس کی وجہ سے بھارت میں نہ صرف لاکھوں اموات ہوئیں بلکہ ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کے باعث عوام بے یار و مددگار اذیتیں جھیلتے رہے۔
این سی او سی نے ڈیلٹا وائرس کے حوالے سے زور دیا کہ متعلقہ ایس او پیز پر عمل درآمد اور ویکسین لگوانے کی رفتار کو تیز کر دیا جائے اور پہلے سے نافذ ایس او پیز پر 9 جولائی سے 18 جولائی تک سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔بیان میں کہا گیا کہ عید الاضحیٰ کے موقع پہ وبا کے پھیلاؤ کی صورت میں، غیر ضروری نقل و حرکت کو محدود رکھنے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں، جن پر عمل درآمد کا فیصلہ کورونا کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھ کر آئندہ چند دن میں کیا جائے گا۔این سی او سی کا کہنا ہے کہ وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر سیر و سیاحت پر پابندی کا بھی امکان ہے۔کورونا کی چوتھی لہر کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک بار پھر اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کی جا رہی ہیں کہ نجی شعبے کے تمام ملازمین بشمول کارپوریٹ سیکٹر، چھوٹی، درمیانی اور بڑی صنعتوں کے ملازمین، زراعت، میڈیا، وکلا، نجی کمپنیاں، فیکٹری مزدور، مارکیٹ میں کام کرنے والے ملازمین، ٹرانسپورٹ کے شعبے سے منسلک افراد، ہوٹل کی صنعت میں کام کرنے والے افراد، ریڑھی بان، جمنازیم ملازمین، مساجد کے خدام اور آئمہ، شادی ہالز اور ورکشاپس پر کام کرنے والے افراد کو 31 جولائی سے قبل لازمی طور پر ویکسین لگوائی جائے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *