ویکیسن لگوانے والوں کو خبردار کر دیا

ڈبلیو ایچ او نے ایک سے زائد قسم کی کورونا ویکیسن لگوانے والوں کو خبردار کر دیا
ایک سے زائد کمپنیوں کی ویکسین لگوانا خطرناک رحجان ہے کیونکہ اس کے صحت پر اثرانداز ہونے سے متعلق اعداد و شمار انتہائی کم ہے۔ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنٹسٹ کا بیان

اسلام آباد ( 13 جولائی2021ء) ڈبلیو ایچ او نے ایک سے زائد قسم کی کورونا ویکیسن لگوانے والوں کو خبردار کر دیا۔تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ لوگ کورونا کی ایک سے زائد قسم کی مختلف ویکسین نہ لگوائیں۔ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنٹسٹ کا کہنا ہے کہ ایک سے زائد کمپنیوں کی ویکسین لگوانا خطرناک رحجان ہے کیونکہ اس کے صحت پر اثرانداز ہونے سے متعلق اعداد و شمار انتہائی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مختفلف ممالک کے شہری یہ فیصلہ کرنا شروع کر دیں کہ انہیں کب تیسری اور چوتھی ویکیسن لگوانی ہے تو افراتفری کی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے امیرممالک پر زوردیا ہے کہ وہ ابھی کووِڈ19ویکسین کی تقویتی خوراک پرزورنہ دیں کیونکہ بہت سے ملکوں میں تو شعبہ طب کے عملہ کے لیے بھی کووِڈ کی ویکسین دستیاب نہیں ہوسکی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادانوم غیبریوسس نے کہا کہ کووِڈ19سے ہلاکتوں میں ایک مرتبہ پھراضافہ ہوگیا ہے اور اب اس کی ڈیلٹا شکل سے زیادہ افراد متاثر ہورہے ہیں۔ ڈیلٹاوائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس سے متاثرہ افراد کی تعداد اور ہلاکتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ دنیا میں کووِڈ-19 کی ویکسین کی سپلائی بہت زیادہ غیرمنصفانہ اور غیرمساویانہ انداز میں ہورہی ہیں۔ بعض ممالک اور خطے ویکسین کی لاکھوں کی تعداد میں خوراکیں اضافی تقویتی انجیکشن لگوانے کے لیے منگوا رہے ہیں جبکہ دوسرے ملکوں میں ابھی طبی عملہ اوراس مہلک وائرس کی زد میں آنے والے افرادکے لیے بھی ویکسین کی خوراکیں مہیا نہیں ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس ضمن میں امریکا کی دواساز کمپنیوں فائزر اور ماڈرنا کا بہ طور خاص نام لیا ہے جو ایسے ممالک کو اضافی خوراک کے طور پرلگانے کے لیے ویکسین مہیا کرنا چاہتی ہیں جہاں پہلے ہی بڑی تعداد میں لوگوں کو ویکسین کے دوونوں انجیکشن لگائے جاچکے ہیں۔تیدروس غیبریوسس نے ان دونوں کمپنیوں پر زوردیا کہ وہ اس کے بجائے غریب اور متوسط آمدن والے ممالک کو ویکسین مہیا کرنے کے کوویکس پروگرام کے لیے خوراکیں مہیا کریں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.