مفاہمت پسند جماعت نہیں رہی

عمران خان اپنے بڑوں کو سمجھا دو، مسلم لیگ ن مفاہمت پسند جماعت نہیں رہی
ریاست کی پوری طاقت، تمام ریاستی ادارے عوام کی خدمت کے بجائے نواز شریف پر ظلم ڈھانے میں جھونک دیے، مریم نواز

آزاد کشمیر (16 جولائی2021ء) پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان اپنے بڑوں کو سمجھا دو کہ مسلم لیگ(ن) اب پرانی مفاہمت پسند جماعت نہیں رہی بلکہ مزاحمت اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا سیکھ گئی ہے۔آزاد کشمیر میں جاری انتخابی مہم کے سلسلے میں پلندری میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ آزاد کشمیر نے جلسوں کا انداز ہی بدل دیا ہے اور اب مجھے پتہ ہی نہیں چلتا کہ جلسہ کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم ہوتا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ آج آپ کا لیڈر محمد نواز شریف ویڈیو کال سے اس جلسے میں شامل ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے آپ کی محبت دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور مجھے آج وہ پوری داستان یاد آ گئی کہ پانچ، چھ سال سے نواز شریف کو آپ کی خاطر کھڑا رہنے پر جو جو سزائیں دی گئیں، جن جن مظالم کا نشانہ بنایا گیا، یقین مانیں کہ آج بھی جب میں اس کے بارے میں سوچتی ہوں تو دل دہل جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب آپ خود کو خدا سمجھنے لگتے ہیں، جب آپ سمجھنا شروع کردیتے ہیں کہ لوگوں کی زندگیاں بنانا اور مٹانا، عزتیں بڑھانا اور ختم کرنا، تباہ و برباد کرنے کا ذمہ خود لے لیتے ہیں تو آپ اللہ تعالیٰ کی حدود میں دخل اندازی کرتے ہیں۔مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے کہا کہ نواز شریف کے دشمنوں نے ان کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا، پوری ریاست نواز شریف کی دشمنی میں جھونک دی، ریاست کی پوری طاقت، تمام ریاستی ادارے عوام کی خدمت کے بجائے نواز شریف پر ظلم ڈھانے میں جھونک دیے اور ان کی دشمنی میں اتنا استعمال کیا کہ ریاستی ادارے کے سربراہ خود بول اٹھے کہ خدا کا خوف کرو، اتنا ظلم مت کرو۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ جب مجھے نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت کا کیس سننا تھا تو مجھے ایک ادارے کے سربراہ کی جانب سے کہا گیا کہ مریم اور نواز شریف کو ضمانت مت دینا ورنہ ہماری دو سال کی محنت بے کار ہو جائے گی اور احتساب عدالت کا جج ارشد ملک بھی اللہ تعالیٰ کے خوف سے بول اٹھا کہ مجھ سے انہوں نے نواز شریف کو زبردستی سزا دلوائی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *