تنخواہ داروں کے لیے بُری خبر

تنخواہ داروں کے لیے بُری خبر
تنخواہ دار طبقے کے الاؤنسز اور دیگر مراعات پر ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی
اسلام آباد ( ۔ یکم جولائی 2021ء): تنخواہ دار طبقے کے الاؤنسز اور دیگر مراعات پر ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آج سے اداروں کی جانب سے تمام فکس ماہانہ ادائیگیوں پر ٹیکس کٹوتی ہو گی۔ دستاویزات کے مطابق چھٹیوں کے بدلے فکسڈ رقم کی وصولی پر ٹیکس لگے گا، اوور ٹائم، بونس ، کمیشن ، فیس اور گریجویٹی پر بھی ٹیکس کٹوتی ہو گی۔ اس کے علاوہ اسپیشل الاؤنس، خرچہ الاؤنس، رینٹ ، اسٹے رینٹ اور بلز پر بھی ٹیکس کٹوتی ہو گی۔ انٹرٹینمنٹ الاؤنس اور پرفارمنس الاؤنس پر بھی ٹیکس کٹوتی ہو گی۔ دستاویزات میں کہا گیا کہ تنخواہ کے علاوہ جتنی بھی مراعات رقم کی صورت میں ملتی ہیں ، ان ادائیگیوں پر دستیاب ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 12 میں تبدیلی کر دی گئی۔
دستاویزات میں کہا گیا کہ یہ تبدیلی فنانس ایکٹ 2021ء کے تحت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ قبل ازیں تنخواہ دار طبقے کے لیے نیا سیلری ٹیکس ریٹ متعین کر دیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق سالانہ چھ لاکھ تنخواہ ہونے پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہو گا۔ چھ لاکھ سے بارہ لاکھ تک سالانہ تنخواہ پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بارہ لاکھ سے اٹھارہ لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر دس فیصد ٹیکس دینا ہو گا اور اس سلیب کے تنخواہ داروں کو تیس ہزار روپے سالانہ رقم جمع کروانا ہو گی ۔ اٹھارہ سے پچیس لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر 15 فیصد ٹیکس دینا ہو گا، اس سلیب کے تنخواداروں کو 90 ہزار روپے سالانہ رقم جمع کروانا ہو گی۔ پچیس لاکھ سے پینتیس لاکھ روپے تک کے تنخواہ داروں پر 17 فیصد ٹیکس لاگو ہو گا، اس سلیب کے تنخواہ داروں کو ایک لاکھ 95 ہزار روپے کی رقم جمع کروانا ہو گی۔ 35 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک کی سالانہ تنخواہ پر 17.5 فیصد ٹیکس لاگو ہو گا اور اس سلیب کے تنخواہ داروں کو سالانہ تین لاکھ 95 ہزار روپے سالانہ دینا ہوں گے۔ اسی لاکھ روپے سے ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی سالانہ تنخواہ پر 25 فیصد ٹیکس ہو گا اور ان تنخواہ داروں کو سالانہ 13 لاکھ 45 ہزار روپے دینا ہوں گے۔ ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد تنخواہ پر 27.5 فیصد ٹیکس ہو گا اور ان تنخواہ داروں کو 23 لاکھ 45 ہزار روپے سالانہ جمع کروانا ہوں گے۔ تین تا پانچ کروڑ سالانہ تنخواہ پر 30 فیصد ٹیکس دینا ہو گا جبکہ سالانہ 72 لاکھ 95 ہزار روپے سالانہ جمع کروانا ہوں گے۔ دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ پانچ کروڑ سے ساڑھے سات کروڑ روپے سالانہ سے زیادہ تنخواہ پر 32.5 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا جبکہ ایک کروڑ 32 لاکھ 95 ہزار روپے بھی سالانہ جمع کروانا ہوں گے۔ دستاویزات کے مطابق یہ سیلری ٹیکس ریٹ مالی سال 22-2021ء تک لاگو رہے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *