تحریک انصاف کے لیے مثبت اشارے

آزاد کشمیر سے تحریک انصاف کے لیے مثبت اشارے جبکہ ن لیگ کے لیے آنے والے اشارے تشویشناک ہیں
مسلم لیگ ن نے پالیسی بنا رکھی ہے کہ پارٹی سیاست اور عوامی جذبات کے لئے مریم نواز کو لیڈ دی جائے، پاکستان کے اگلے

انتخابات سے ایک سال پہلے حکومت کمزور ہوگی، پی ٹی آئی نے پارٹی کو بالکل نظرانداز کر دیا ہے۔ سینئیر کالم نگار سہیل وڑائچ نے حکومت اور مسلم لیگ ن کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اسلام آباد ( 27 جولائی 2021ء) : سینئیر صحافی و کالم نگار سہیل وڑائچ نے حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ اپنے حالیہ کالم میں سہیل وڑائچ نے کہا کہ وفاق میں برسر اقتدار پاکستان تحریکِ انصاف کی آزاد کشمیر میں جیت کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ گلگت بلتستان ہو یا آزاد کشمیر، دونوں جگہ کے ووٹرز وفاق میں برسر اقتدار جماعت ہی کو جتوانے کی روایت کے حامل ہیں۔  ووٹرز جائز طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ فنڈز اور طاقت و اختیار کا سرچشمہ وفاقی حکومت ہے۔ اس لئے وفاق میں برسراقتدار جماعت کو ووٹ دے کر وہ اپنے فنڈز اور زیادہ سے زیادہ حقوق کے حصول کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی جیت کو صرف وفاقی حکومت کے مرہونِ منت قرار دینا بھی درست نہیں۔ اِس حوالے سے دوسرے عناصر کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ مریم نواز صاحبہ نے آزاد کشمیر میں زور دار مہم چلائی اور بڑے بڑے مجمعوں سے خطاب کیا۔ بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہے۔ اگر تو جلسے جلوسوں کا رنگ ڈھنگ دیکھا جائے تو پھر ن لیگ کو بہت کم سیٹیں ملی ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مریم نواز کراؤڈ پُلر ہیں، لوگ اُن کے جارحانہ خطابات کو سننے کے لئے آتے ہیں جبکہ حکومتی جلسوں میں کوئی ایسا مقرر نہیں تھا جس کی اسٹار ویلیو ایسی ہو۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی جیت ن لیگ کے لئے جھٹکا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے پی ٹی آئی اپنی معاشی کارکردگی میں بہتری کا جو ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے، اس کا عوامی ذہنوں پر اثر پڑا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن نے پی ڈی ایم کا جو حشر کیا اور جس طرح سے اپوزیشن کی پارٹیوں نے آپس میں تماشا لگایا اس کے لازمی اثرات بھی انتخابات پر پڑے ہیں۔ سہیل وڑائچ کا اپنے حالیہ کالم میں کہناتھا کہ جوں جوں وقت گزر رہا ہے ن لیگ کے لئے چیلنجز بڑھتے جا رہے ہیں۔ ن لیگ کے حامیوں کے لئے دو بیانیوں کی کشتیوں میں سواری ایک مشکل مرحلہ ہے۔ ایک طرف شہباز شریف کا مفاہمانہ رویہ ہے تو دوسری طرف مریم نواز کا جارحانہ رویہ۔ ن لیگ نے اپنی حکمتِ عملی یہ بنا رکھی ہے کہ پارٹی سیاست اور عوامی جذبات کے لئے مریم نواز کو لیڈ دی جائے جبکہ پارلیمانی سیاست اور اتحادی سیاست کے لئے شہباز شریف کو آگے رکھا جائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.