بادشاہ کی تصاویر چھاپی گئیں

وہ وقت جب پاکستانی نوٹوں پر قائداعظم کی بجائے برطانیہ کے بادشاہ کی تصاویر چھاپی گئیں ، مگر کیوں؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )آپ نے پاکستانی کرنسی نوٹس پر ہمیشہ بانی پاکستان قائد اعظم کا پورٹریٹ ہی دیکھا ہو گا۔۔۔ پوری دنیا میں بھی اسی روایت اور اصول کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ اس ملک کے کرنسی نوٹس پر اس ملک کے ٌفادر آف نیشنٌ کی تصویر ہی جاری کی جاتی ہے۔۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کے کرنسی نوٹس پر قائد اعظم کے کی بجائےبرطانیہ کے باشادہ جیورج ششم کی تصویر بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے 1947 میں پاکستان کی آذادی کے فوری بعد پاکستان ایک نوزائیدہ ریاست تھی جس کے پاس کرنسی چھاپنےاور سکے بنانے کا اپنا نظام نہیں تھا۔۔۔ لہذا پاکستان کو فوری طور ملک کے اقتصادی اور مانیٹری نظام بحال کرنے کے لیے کرنسی نوٹوں اور سکوں کی ضرورت تھی تو قائد اعظم نے حکومت برطانیہ سے معاہدہ کیا جب تک پاکستان اپنے ذاتی کرنسی نوٹوں اور سکوں میں خودکفیل نہیں ہوتا تب تک پاکستان میں برطانیہ کے کرنسی نوٹ ہی رائج کیے جائیں گے۔۔ 1948 تک یہی کرنسی نوٹ پاکستان میں رائج رہے۔ ان نوٹوں پر حکومت پاکستان واضح طور پر پڑھا جاسکتا ہے، اب یہ کرنسی نوٹس انتہائی نایاب تصور کیے جاتے ہیں۔اور ان کی قیمت ہزاروں اور لاکھوں میں ہے۔ اور برطانیہ ان کرنسی نوٹوں کو خریدنے میں خاص طور پر دلچسپی رکھتا ہے۔ مزید خبروں تبصروں تجیزوں اور کالمز پڑھنے اور ہر وقت چوبیس گھنٹے اپ ڈیٹ رہنے اور ملک کے حالات سے با خبر رہنے کیلئے ہمارا پیج لائیک اور شیئر ضرور کریں اور اپنے دوستوں سے بھی شیئر کی درخواست کریں ہم آپ کے بے حد مشکور ہوں گے شکریہ

 

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *