تنخواہیں روکنے کا سلسلہ شروع ہو گیا

ویکسین لگوانے سے انکار پر سرکاری ملازمین کی معطلی اور تنخواہیں روکنے کا سلسلہ شروع ہو گیا
کورونا ویکیسن لگانے سے انکار پر 6 خواتین پولیس اہلکار معطل، ویکسین نہ لگوانے والے پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں روک دی گئیں

لاہور(12 جون 2021ء) : حکومت نے ویکسین نہ لگوانے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی شروع کر دی ۔تفصیلات کے مطابق کورونا ویکیسن سے انکار پر لیڈر پولیس اہلکار ریڈار پر آ گئیں۔جب کہ ویکسین نہ لگوانے والے پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں روک دی گئیں۔تفصیلات کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس کی ویکسین لگوانے سے انکار پر سرکاری ملازمین کی معطلی اور تنخواہیں روکنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔بنوں میں کورونا ویکسین سے انکار پر لیڈیز پولیس اہلکار کی شامت آ گئی۔ڈی پی او بنوں نے کورونا ویکیسن لگانے سے انکار پر 6 خواتین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا۔معطل خواتین پولیس اہلکاروں کی معطلی کے ساتھ ساتھ ان کی تنخواہیں روکنے کا بھی حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔کورونا ویکسین کے حوالے سے حکومتی احکامات کے مطابق تمام محکمہ جات نے ملازمین کو آخری وارننگ دے رکھی ہے۔واضح رہے کہ حکومت ویکسینیشن کا عمل تیز کرنے کے طریقوں پر غور کررہی ہے۔ یہ افواہیں بھی تھیں کہ حکومت ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا سوچ رہی ہے جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی، ویکسین نہ لگوانے والے افراد کو ریسٹورنٹس اور سرکاری دفاتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔علاوہ ازیں ویکسین نہ لگوانے والوں کا موبائل سم کارڈ بلاک کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا 20 فیصد آبادی کی ویکسینیشن والے اضلاع دوبار کھول دئیے جائیں گے۔محکمہ پرائمری اینڈ سیکینڈری ہیلتھ کئیر اس سلسلے میں نوٹیفیکیشن جاری کرے گا۔ 12 جون سے پنجاب میں 18 سال کی عمر سے زائد افراد کی واک ان ویکسینیشن کا بھی فیصلہ کیا گیا۔پنجاب کے اہم مزارات کے باہر موبائل و ویکسینیشن کیمپ قائم کیے جائیں گے۔یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ہفتے سے 18 سال سے زائد افراد کی ویکسینیشن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ویکسینیشن کے عمل کو بھرپور طور سے کامیاب بنایا جائے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.