سعودیہ میں کسی کارکن سے بے جا ڈیوٹی

سعودیہ میں کسی کارکن سے بے جا ڈیوٹی لینے پر 15 ہزار ریال جرمانہ ہوگا
کارکن پر تشد د، بدزبانی اور توہین آمیز سلوک کرنے والے آجروں کو بھی سزا ملے گی

ریاض(11 جون2021ء ) سعودی عرب میں کئی دہائیوں پرانے کفالت کے استحصالی نظام کا خاتمہ ہو چکا ہے، اس نظام کی جگہ نئے قانون محنت نے لے لی ہے جس میں کارکنان کو بہت زیادہ حقوق حاصل ہیں اور انہیں آجروں کے استحصال سے بچانے کے لیے موثر قانون تیار کیے گئے ہیں۔ سعودی عرب کے معروف قانون دان عبید العیافی نے بتایا ہے کہ سعودی قانون محنت کے تحت کسی کارکن سے بے جا ڈیوٹی لینا غیر قانونی اقدام ہے جس کے مرتکب آجروں پر 15 ہزارریال تک کا جرمانہ عائدہو گا۔اُردو نیوز کے مطابق عبید العیافی نے آجروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی کارکن سے غیر قانونی ڈیوٹی لینے کا خطرہ مول نہ لیں۔ ایسا کرنے پر 15 ہزار ریال تک کا جرمانہ ہوگا۔العیافی نے مزید کہا کہ سعودی قانون محنت نے تمام آجروں اور ان کے مقرر کردہ عہدے داروں پر یہ پابندی عائد کررکھی ہے کہ وہ کسی بھی کارکن سے بے جا ڈیوٹی نہ لیں۔ہر کارکن کے ساتھ احترام کا معاملہ کریں۔ایسی کوئی بات یا ایسی کوئی حرکت نہ کریں جس سے کارکن کا وقار متاثر ہوتا ہو یا اس کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔العیافی نے توجہ دلائی کہ کسی بھی کارکن سے زبردستی کوئی بھی کام یا خدمت لینا غیر قانونی عمل ہے- کسی بھی کارکن سے ایسا کوئی کام نہیں لیا جاسکتا جو ملازمت کے معاہدے میں مذکور نہ ہو- ملازمت کے معاہدے سے خارج کسی بھی کام کے لیے کارکن کو دھمکا کر اس سے کام کرانا قابل سزا عمل ہے- تاہم سیلاب، حالات جنگ، آتشزدگی، قحط، زلزلے، زبردست وبائی امراض، جانوروں یا حشرات الارض وغیرہ کی یلغارکے استثنائی حالات میں ان سے اضافی کام لیا جا سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *